جامع الترمذي حدیث نمبر: 1518
Jami at-Tirmidhi 1518
کتاب #20: کتاب: قربانی کے احکام و مسائل
19: باب
باب: قربانی سے متعلق ایک اور باب۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ , حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ , حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ , حَدَّثَنَا أَبُو رَمْلَةَ، عَنْ مِخْنَفِ بْنِ سُلَيْمٍ , قَالَ: كُنَّا وُقُوفًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَاتٍ , فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ , عَلَى كُلِّ أَهْلِ بَيْتٍ فِي كُلِّ عَامٍ أُضْحِيَّةٌ وَعَتِيرَةٌ , هَلْ تَدْرُونَ مَا الْعَتِيرَةُ؟ هِيَ الَّتِي تُسَمُّونَهَا الرَّجَبِيَّةَ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ , وَلَا نَعْرِفُ هَذَا الْحَدِيثَ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَوْنٍ.
مخنف بن سلیم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میدان عرفات میں ٹھہرے ہوئے تھے ، میں نے آپ کو فرماتے سنا : لوگو ! ہر گھر والے پر ہر سال ایک قربانی اور «عتيرة» ہے ، تم لوگ جانتے ہو «عتيرة» کیا ہے ؟ «عتيرة» وہ ہے جسے تم لوگ «رجبية» کہتے ہو ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن غریب ہے ، ہم اس کو ابن عون ہی کی سند سے جانتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1518]
💡 وضاحت:
۱؎: جو بعد میں منسوخ ہو گیا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (3125)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(1518) إسناده ضعيف / د 2788، ن 4229، جه 3125
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الأضاحي 1 (2788)، سنن النسائی/الفرع والعتیرة 1 (4229)، سنن ابن ماجہ/الأضاحي 2 (3125)، (تحفة الأشراف: 11244)، و مسند احمد (4/215) و (5/76) (حسن)