جامع الترمذي حدیث نمبر: 1511
Jami at-Tirmidhi 1511
کتاب #20: کتاب: قربانی کے احکام و مسائل
14: باب مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ فِي أَكْلِهَا بَعْدَ ثَلاَثٍ
باب: تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت رکھ کر کھانے کی رخصت کا بیان۔
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ , حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ , قَالَ: " قُلْتُ لِأُمِّ الْمُؤْمِنِينَ: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ؟ قَالَتْ: لَا , وَلَكِنْ قَلَّ مَنْ كَانَ يُضَحِّي مِنَ النَّاسِ فَأَحَبَّ أَنْ يَطْعَمَ مَنْ لَمْ يَكُنْ يُضَحِّي , وَلَقَدْ كُنَّا نَرْفَعُ الْكُرَاعَ فَنَأْكُلُهُ بَعْدَ عَشَرَةِ أَيَّامٍ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَأُمُّ الْمُؤْمِنِينَ هِيَ: عَائِشَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَقَدْ رُوِيَ عَنْهَا هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ.
عابس بن ربیعہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین سے کہا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کا گوشت رکھنے سے منع فرماتے تھے ؟ وہ بولیں : نہیں ، لیکن اس وقت بہت کم لوگ قربانی کرتے تھے ، اس لیے آپ چاہتے تھے کہ جو لوگ قربانی نہیں کر سکے ہیں انہیں کھلایا جائے ، ہم لوگ قربانی کے جانور کے پائے رکھ دیتے پھر ان کو دس دن بعد کھاتے تھے ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ام المؤمنین ( جن سے حدیث مذکور مروی ہے ) وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی عائشہ رضی الله عنہا ہیں ، ان سے یہ حدیث کئی سندوں سے آئی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1511]
💡 وضاحت:
۱؎: مقصود یہ ہے کہ قربانی کا گوشت ذخیرہ کر کے رکھتے اور قربانی کے بعد اسے کئی دنوں تک کھاتے۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف بهذا السياق، وأصله في " صحيح مسلم "، الإرواء (4 / 370)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأطعمة 27 (5423)، و 37 (5438)، والأضاحي 16 (5570)، سنن النسائی/الضحایا 37 (4437)، سنن ابن ماجہ/الضحایا16 (1511)، والأطعمة 30 (3159)، (تحفة الأشراف: 16165)، و مسند احمد (6/102، 209) (صحیح) (وعند صحیح مسلم/الأضاحي 5 (1971)، و سنن ابی داود/ الضحایا 10 (2812)، و موطا امام مالک/الضحایا 4 (7) و مسند احمد (6/51)، سنن الدارمی/الأضاحي 6 () نحوہ)