جامع الترمذي حدیث نمبر: 1501
Jami at-Tirmidhi 1501
کتاب #20: کتاب: قربانی کے احکام و مسائل
8: باب مَا جَاءَ فِي الاِشْتِرَاكِ فِي الأُضْحِيَةِ
باب: قربانی میں اشتراک کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ , حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى , عَنْ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ , عَنْ عِلْبَاءَ بْنِ أَحْمَرَ , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: " كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ , فَحَضَرَ الْأَضْحَى , فَاشْتَرَكْنَا فِي الْبَقَرَةِ سَبْعَةً , وَفِي الْبَعِيرِ عَشَرَةً " , قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب , عَنْ أَبِي الْأَسَدِ السُّلَمِيِّ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ , وَأَبِي أَيُّوبَ , قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ , لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ الْفَضْلِ بْنِ مُوسَى.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ قربانی کا دن آ گیا ، چنانچہ ہم نے گائے کی قربانی میں سات آدمیوں اور اونٹ کی قربانی میں دس آدمیوں کو شریک کیا ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف فضل بن موسیٰ کی روایت سے جانتے ہیں ، ¤ ۲- اس باب میں «ابوالأ سد سلمی عن أبیہ عن جدہ» اور ابوایوب سے احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1501]
💡 وضاحت:
۱؎: سات افراد کی طرف سے گائے اور دس افراد کی طرف سے اونٹ ذبح کرنے کا یہ ضابطہٰ و اصول قربانی کے جانوروں کے لیے ہے، جب کہ ہدی کے جانور اونٹ ہوں یا گائے سب میں سات سات افراد شریک ہوں گے، آگے جابر رضی الله عنہ کی روایت سے یہی ثابت ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح وقد مضى برقم (907)
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 905 (صحیح)