جامع الترمذي حدیث نمبر: 1487
Jami at-Tirmidhi 1487
کتاب #19: کتاب: شکار کے احکام و مسائل
17: باب مَا جَاءَ مَنْ أَمْسَكَ كَلْبًا مَا يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِهِ)
باب: کتا پالنے سے ثواب میں کمی کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ أَيُّوبَ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا لَيْسَ بِضَارٍ , وَلَا كَلْبَ مَاشِيَةٍ , نَقَصَ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ " , قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ , وَأَبِي هُرَيْرَةَ , وَسُفْيَانَ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ , قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " أَوْ كَلْبَ زَرْعٍ ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے ایسا کتا پالا یا رکھا جو سدھایا ہوا شکاری اور جانوروں کی نگرانی کرنے والا نہ ہو تو اس کے ثواب میں سے ہر دن دو قیراط کے برابر کم ہو گا “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے یہ بھی فرمایا : «أو كلب زرع» ” یا وہ کتا کھیتی کی نگرانی کرنے والا نہ ہو “ ، ¤ ۳- اس باب میں عبداللہ بن مغفل ، ابوہریرہ ، اور سفیان بن أبی زہیر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1487]
💡 وضاحت:
۱؎: قیراط ایک وزن ہے جو اختلاف زمانہ کے ساتھ بدلتا رہا ہے، یہ کسی چیز کا چوبیسواں حصہ ہوتا ہے، کتا پالنے سے ثواب میں کمی کے کئی اسباب ہو سکتے ہیں: ایسے گھروں میں فرشتوں کا داخل نہ ہونا، گھر والے کی غفلت کی صورت میں برتن میں کتے کا منہ ڈالنا، پھر پانی اور مٹی سے دھوئے بغیر اس کا استعمال کرنا، ممانعت کے باوجود کتے کا پالنا، گھر میں آنے والے دوسرے لوگوں کو اس سے تکلیف پہنچنا وغیرہ وغیرہ۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، صحيح أبي داود (2534)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصید والذبائح 6 (5482)، صحیح مسلم/المساقاة 10 (البیوع 31)، (1574)، سنن النسائی/الصید 12 (4289) و 13 (4291-4292) (تحفة الأشراف: 7549)، وط/الاستئذان 5 (13)، و مسند احمد (2/4، 8، 37، 47، 60)، وسنن الدارمی/الصید 2 (2047) (صحیح)