جامع الترمذي حدیث نمبر: 1459
Jami at-Tirmidhi 1459
کتاب #18: کتاب: حدود و تعزیرات سے متعلق احکام و مسائل
26: باب مَا جَاءَ فِيمَنْ شَهَرَ السِّلاَحَ
باب: مسلمان کے خلاف ہتھیار اٹھانے والے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَأَبُو السَّائِبِ سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ , عَنْ جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ , عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا " , قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , وَابْنِ الزُّبَيْرِ , وَأَبِي هُرَيْرَةَ , وَسَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ , قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي مُوسَى , حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو ہمارے خلاف ہتھیار اٹھائے وہ ہم میں سے نہیں ہے “ ۱؎ ۔ اس باب میں ابن عمر ، ابن زبیر ، ابوہریرہ اور سلمہ بن الاکوع رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1459]
💡 وضاحت:
۱؎: مسلمانوں کے خلاف ناحق ہتھیار اٹھانے والا اگر اسے حلال سمجھ کر ان سے صف آرا ہے تو اس کے کافر ہونے میں کسی کو شبہ نہیں اور اگر اس کا یہ عمل کسی دنیاوی طمع و حرص کی بناء پر ہے تو اس کا شمار باغیوں میں سے ہو گا اور اس سے قتال جائز ہو گا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (2575 - 2577)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الفتن 7 (7071)، صحیح مسلم/الإیمان 42 (100)، سنن ابن ماجہ/الحدود 19 (2577)، (تحفة الأشراف: 042) (صحیح)