جامع الترمذي حدیث نمبر: 1437
Jami at-Tirmidhi 1437
کتاب #18: کتاب: حدود و تعزیرات سے متعلق احکام و مسائل
10: باب مَا جَاءَ فِي رَجْمِ أَهْلِ الْكِتَابِ
باب: اہل کتاب کو رجم کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ , حَدَّثَنَا شَرِيكٌ , عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ , عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ , " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَمَ يَهُودِيًّا وَيَهُودِيَّةً ". قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , وَالْبَرَاءِ , وَجَابِرٍ , وَابْنِ أَبِي أَوْفَى , وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ , وَابْنِ عَبَّاسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ , قَالُوا: إِذَا اخْتَصَمَ أَهْلُ الْكِتَابِ , وَتَرَافَعُوا إِلَى حُكَّامِ الْمُسْلِمِينَ , حَكَمُوا بَيْنَهُمْ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ وَبِأَحْكَامِ الْمُسْلِمِينَ , وَهُوَ قَوْلُ: أَحْمَدَ , وَإِسْحَاق , وقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا يُقَامُ عَلَيْهِمُ الْحَدُّ فِي الزِّنَا , وَالْقَوْلُ الْأَوَّلُ أَصَحُّ.
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی مرد اور ایک یہودی عورت کو رجم کیا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن غریب ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابن عمر ، براء ، جابر ، ابن ابی اوفی ، عبداللہ بن حارث بن جزء اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ¤ ۳- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے ، وہ کہتے ہیں : جب اہل کتاب آپس میں جھگڑیں اور مسلم حکمرانوں کے پاس اپنا مقدمہ پیش کریں تو ان پر لازم ہے کہ وہ کتاب و سنت اور مسلمانوں کے احکام کے مطابق فیصلہ کریں ، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے ، ¤ ۴- بعض لوگ کہتے ہیں : اہل کتاب پر زنا کی حد نہ قائم کی جائے ، لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے ۱؎ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1437]
💡 وضاحت:
۱؎: کیونکہ یہ قول اس باب کی احادیث کے مطابق ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح بما قبله (1436)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الحدود 10 (2557)، (تحفة الأشراف: 2175) (صحیح) (سند میں ”شریک القاضی“ حافظے کے کمزور ہیں، لیکن پچھلی حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث بھی صحیح لغیرہ ہے)