جامع الترمذي حدیث نمبر: 1432
Jami at-Tirmidhi 1432
کتاب #18: کتاب: حدود و تعزیرات سے متعلق احکام و مسائل
7: باب مَا جَاءَ فِي تَحْقِيقِ الرَّجْمِ
باب: رجم کے ثبوت کا بیان۔
حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ , وَإِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ , وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ , وَغَيْرُ وَاحِدٍ , قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , عَنْ مَعْمَرٍ , عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ , قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَقِّ , وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ الْكِتَابَ , فَكَانَ فِيمَا أَنْزَلَ عَلَيْهِ آيَةُ " الرَّجْمِ " , فَرَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَرَجَمْنَا بَعْدَهُ , وَإِنِّي خَائِفٌ أَنْ يَطُولَ بِالنَّاسِ زَمَانٌ , فَيَقُولَ قَائِلٌ: لَا نَجِدُ الرَّجْمَ فِي كِتَابِ اللَّهِ , فَيَضِلُّوا بِتَرْكِ فَرِيضَةٍ أَنْزَلَهَا اللَّهُ , أَلَا وَإِنَّ الرَّجْمَ حَقٌّ عَلَى مَنْ زَنَى , إِذَا أَحْصَنَ وَقَامَتِ الْبَيِّنَةُ , أَوْ كَانَ حَبَلٌ أَوِ اعْتِرَافٌ ". وَفِي الْبَاب , عَنْ عَلِيٍّ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَرُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ , عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ، اور آپ پر کتاب نازل کی ، آپ پر جو کچھ نازل کیا گیا اس میں آیت رجم بھی تھی ۱؎ ، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کیا اور آپ کے بعد ہم نے بھی رجم کیا ، ( لیکن ) مجھے اندیشہ ہے کہ جب لوگوں پر زمانہ دراز ہو جائے گا تو کہنے والے کہیں گے : اللہ کی کتاب میں ہم رجم کا حکم نہیں پاتے ، ایسے لوگ اللہ کا نازل کردہ ایک فریضہ چھوڑنے کی وجہ سے گمراہ ہو جائیں گے ، خبردار ! جب زانی شادی شدہ ہو اور گواہ موجود ہوں ، یا جس عورت کے ساتھ زنا کیا گیا ہو وہ حاملہ ہو جائے ، یا زانی خود اعتراف کر لے تو رجم کرنا واجب ہے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اور کئی سندوں سے یہ حدیث عمر رضی الله عنہ سے آئی ہے ، ¤ ۳- اس باب میں علی رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1432]
💡 وضاحت:
۱؎: آیت رجم کی تلاوت منسوخ ہے لیکن اس کا حکم قیامت تک کے لیے باقی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (2553)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الحدود 30 (6829)، صحیح مسلم/الحدود 4 (1691)، سنن ابی داود/ الحدود 23 (4418)، سنن ابن ماجہ/الحدود 8 (2553)، (تحفة الأشراف: 10508)، و مسند احمد (1/29، 40، 47، 50، 55)، سنن الدارمی/الحدود 16 (2368) (صحیح)