جامع الترمذي حدیث نمبر: 1424
Jami at-Tirmidhi 1424
کتاب #18: کتاب: حدود و تعزیرات سے متعلق احکام و مسائل
2: باب مَا جَاءَ فِي دَرْءِ الْحُدُودِ
باب: حد کے دفع کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ أَبُو عَمْرٍو الْبَصْرِيُّ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زِيَادٍ الدِّمَشْقِيُّ , عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ادْرَءُوا الْحُدُودَ عَنِ الْمُسْلِمِينَ مَا اسْتَطَعْتُمْ , فَإِنْ كَانَ لَهُ مَخْرَجٌ فَخَلُّوا سَبِيلَهُ , فَإِنَّ الْإِمَامَ أَنْ يُخْطِئَ فِي الْعَفْوِ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يُخْطِئَ فِي الْعُقُوبَةِ ". حَدَّثَنَا هَنَّادٌ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ زِيَادٍ , نَحْوَ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ رَبِيعَةَ , وَلَمْ يَرْفَعْهُ , قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَائِشَةَ لَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ رَبِيعَةَ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ زِيَادٍ الدِّمَشْقِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَرَوَاهُ وَكِيعٌ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ زِيَادٍ , نَحْوَهُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ , وَرِوَايَةُ وَكِيعٍ أَصَحُّ , وَقَدْ رُوِيَ نَحْوُ هَذَا عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُمْ قَالُوا مِثْلَ ذَلِكَ , وَيَزِيدُ بْنُ زِيَادٍ الدِّمَشْقِيُّ ضَعِيفٌ فِي الْحَدِيثِ , وَيَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ الْكُوفِيُّ , أَثْبَتُ مِنْ هَذَا وَأَقْدَمُ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جہاں تک تم سے ہو سکے مسلمانوں سے حدود کو دفع کرو ، اگر مجرم کے بچ نکلنے کی کوئی صورت ہو تو اسے چھوڑ دو ، کیونکہ مجرم کو معاف کر دینے میں امام کا غلطی کرنا اسے سزا دینے میں غلطی کرنے سے کہیں بہتر ہے ۔ اس سند سے وکیع نے یزید بن زیاد سے محمد بن ربیعہ کی حدیث کی طرح بیان کیا ، لیکن انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث کو ہم مرفوع صرف بطریق : «محمد بن ربيعة عن يزيد بن زياد الدمشقي عن الزهري عن عروة عن عائشة عن النبي صلى الله عليه وسلم» ہی جانتے ہیں ، ¤ ۲- اسے وکیع نے بھی یزید بن زیاد سے اسی طرح روایت کیا ہے ، لیکن یہ مرفوع نہیں ہے ، اور وکیع کی روایت زیادہ صحیح ہے ، ¤ ۳- یزید بن زیاد دمشقی حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں ، اور یزید بن ابوزیاد کوفی ان سے زیادہ اثبت اور اقدم ہیں ، ¤ ۴- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کئی صحابہ سے اسی طرح مروی ہے ، ان تمام لوگوں نے ایسا ہی کہا ہے ، ¤ ۵- اس باب میں ابوہریرہ اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1424]
قال الشيخ الألباني:
(حديث يزيد بن زياد المرفوع إلى عائشة) ضعيف، (حديث يزيد بن زياد نحوه ولم يرفعه) ضعيف أيضا، المشكاة (3570)، الإرواء (2355) // ضعيف الجامع الصغير (259) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(1424) ضعيف ¤ يزيد بن زياد الدمشقي: متروك (تق:7716) وللحديث شواھد كلھا ضعيفة
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 16689) (ضعیف) (سند میں ”یزید بن زیاد الدمشقی“ متروک ہے)