جامع الترمذي حدیث نمبر: 1419
Jami at-Tirmidhi 1419
کتاب #17: کتاب: دیت و قصاص کے احکام و مسائل
22: باب مَا جَاءَ فِيمَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ
باب: اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جانے والا آدمی شہید ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُطَّلِبِ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو , عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ عَلِيٍّ , وَسَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ , وَأَبِي هُرَيْرَةَ , وَابْنِ عُمَرَ , وَابْنِ عَبَّاسٍ , وَجَابِرٍ , قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو حَدِيثٌ حَسَنٌ , وَقَدْ رُوِيَ عَنْهُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ , وَقَدْ رَخَّصَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ لِلرَّجُلِ أَنْ يُقَاتِلَ عَنْ نَفْسِهِ وَمَالِهِ , وقَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ: يُقَاتِلُ عَنْ مَالِهِ وَلَوْ دِرْهَمَيْنِ.
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے وہ شہید ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کی حدیث حسن ہے ، یہ دوسری سندوں سے بھی ان سے مروی ہے ¤ ۲- بعض اہل علم نے آدمی کو اپنی جان و مال کی حفاظت کے لیے دفاع کی اجازت دی ہے ، ¤ ۳- اس باب میں علی ، سعید بن زید ، ابوہریرہ ، ابن عمر ، ابن عباس اور جابر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ¤ ۴- عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں : آدمی اپنے مال کی حفاظت کے لیے دفاع کرے خواہ اس کا مال دو درہم ہی کیوں نہ ہو ۱؎ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1419]
💡 وضاحت:
۱؎: مفہوم یہ ہے کہ اگر کوئی کسی دوسرے شخص کا ناحق مال لینا چاہتا ہے تو یہ دیکھے بغیر کہ مال کم ہے یا زیادہ مظلوم کو یہ حق حاصل ہے کہ اپنے مال کی حفاظت کے لیے اس کا دفاع کرے، دفاع کرتے وقت غاصب اگر مارا جائے تو دفاع کرنے والے پر قصاص اور دیت میں سے کچھ بھی نہیں ہے اور اگر دفاع کرنے والا مارا جائے تو وہ شہید ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح الأحكام (41)، الإرواء (1528)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/المظالم 33 (2480)، صحیح مسلم/الإیمان 62 (225)، سنن ابی داود/ السنة 32 (4771)، سنن النسائی/المحاربة 22 (4093)، (تحفة الأشراف: 8603)، و مسند احمد (2/163، 193، 194، 205، 206، 210، 215، 217، 221، 224) (صحیح)