جامع الترمذي حدیث نمبر: 1411
Jami at-Tirmidhi 1411
کتاب #17: کتاب: دیت و قصاص کے احکام و مسائل
15: باب مَا جَاءَ فِي دِيَةِ الْجَنِينِ
باب: حمل (ماں کے پیٹ میں موجود بچہ) کی دیت کا بیان۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ , حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نَضْلَةَ , عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ , أَنَّ امْرَأَتَيْنِ كَانَتَا ضَرَّتَيْنِ , فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِحَجَرٍ , أَوْ عَمُودِ فُسْطَاطٍ , فَأَلْقَتْ جَنِينَهَا " فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَنِينِ غُرَّةٌ عَبْدٌ , أَوْ أَمَةٌ، وَجَعَلَهُ عَلَى عَصَبَةِ الْمَرْأَةِ ". قَالَ الْحَسَنُ , وَأَخْبَرَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ مَنْصُورٍ , بِهَذَا الْحَدِيثِ نَحْوَهُ , وقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ دو عورتیں سوکن تھیں ، ان میں سے ایک نے دوسری کو پتھر یا خیمے کی میخ ( گھونٹی ) سے مارا ، تو اس کا حمل ساقط ہو گیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حمل کی دیت میں «غرة» یعنی غلام یا لونڈی دینے کا فیصلہ فرمایا اور دیت کی ادائیگی اس عورت کے عصبہ کے ذمہ ٹھہرائی ۱؎ ۔ حسن بصری کہتے ہیں : زید بن حباب نے سفیان ثوری سے روایت کی ، اور سفیان ثوری نے منصور سے اس حدیث کو اسی طرح روایت کی ہے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1411]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ حدیث قتل کی دوسری قسم ”شبہ عمد“ کے سلسلہ میں اصل ہے، شبہ عمد: وہ قتل ہے جس میں قتل کے لیے ایسی چیزوں کا استعمال ہوتا ہے جن سے عموماً قتل واقع نہیں ہوتا جیسے: لاٹھی اور اسی جیسی دوسری چیزیں، اس میں دیت مغلظہ لی جاتی ہے، یہ سو اونٹ ہے، ان میں چالیس حاملہ اونٹنیاں ہوں گی، اس دیت کی ذمہ داری قاتل کے عصبہ پر ہے اور یہ وہ لوگ ہیں جو باپ کی جہت سے قاتل کے قریبی یا دور کے رشتہ دار ہیں، خواہ اس کے وارثین میں سے نہ ہوں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، الإرواء (2206)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الدیات 25 (6904 - 6908)، صحیح مسلم/القسامة (الحدود)، 11 (1682)، سنن ابی داود/ الدیات 21 (4568)، سنن النسائی/القسامة 39 (4825)، سنن ابن ماجہ/الدیات 7 (2640)، (تحفة الأشراف: 11510)، و مسند احمد (4/224، 245، 246، 249)، و سنن الدارمی/الدیات 20 (2425) (صحیح)