جامع الترمذي حدیث نمبر: 1400
Jami at-Tirmidhi 1400
کتاب #17: کتاب: دیت و قصاص کے احکام و مسائل
9: باب مَا جَاءَ فِي الرَّجُلِ يَقْتُلُ ابْنَهُ يُقَادُ مِنْهُ أَمْ لاَ
باب: آدمی اپنے بیٹے کو قتل کر دے تو کیا قصاص لیا جائے گا یا نہیں؟
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ , عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ , عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ , قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا يُقَادُ الْوَالِدُ بِالْوَلَدِ ".
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” باپ سے بیٹے کا قصاص نہیں لیا جائے گا “ ۱؎ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1400]
💡 وضاحت:
۱؎: اس کی وجہ یہ ہے کہ باپ بیٹے کے وجود کا سبب ہے، لہٰذا یہ جائز نہیں کہ بیٹا باپ کے خاتمے کا سبب بنے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (2662)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(1400) إسناده ضعيف /جه 2662 ¤ حجاج بن أرطاة ضعيف مدلس (تقدم:527) وتابعه محمد بن عجلان وھو مدلس مشھور (تقدم: 1084)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الدیات 22 (2662)، (تحفة الأشراف: 10582)، و مسند احمد (1/16، 23) (صحیح) (متابعات وشواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، ورنہ ”حجاج بن ارطاة متکلم فیہ راوی ہیں)