📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: طہارت کے احکام و مسائل (كتاب الطهارة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم) 🏷️ باب: باب: نفاس والی عورتیں (صوم و صلاۃ سے) کب تک رکی رہیں؟
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 139 Jami at-Tirmidhi 139
کتاب #1: کتاب: طہارت کے احکام و مسائل
105: بَابُ مَا جَاءَ فِي كَمْ تَمْكُثُ النُّفَسَاءُ
باب: نفاس والی عورتیں (صوم و صلاۃ سے) کب تک رکی رہیں؟
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ أَبُو بَدْرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ أَبِي سَهْلٍ، عَنْ مُسَّةَ الْأَزْدِيَّةِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: " كَانَتِ النُّفَسَاءُ تَجْلِسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، فَكُنَّا نَطْلِي وُجُوهَنَا بِالْوَرْسِ مِنَ الْكَلَفِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ أَبِي سَهْلٍ، عَنْ مُسَّةَ الْأَزْدِيَّةِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، وَاسْمُ أَبِي سَهْلٍ: كَثِيرُ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل: عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ثِقَةٌ، وَأَبُو سَهْلٍ ثِقَةٌ، وَلَمْ يَعْرِفْ مُحَمَّدٌ هَذَا الْحَدِيثَ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ أَبِي سَهْلٍ، وَقَدْ أَجْمَعَ أَهْلُ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ عَلَى أَنَّ النُّفَسَاءَ تَدَعُ الصَّلَاةَ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، إِلَّا أَنْ تَرَى الطُّهْرَ قَبْلَ ذَلِكَ فَإِنَّهَا تَغْتَسِلُ وَتُصَلِّي، فَإِذَا رَأَتِ الدَّمَ بَعْدَ الْأَرْبَعِينَ، فَإِنَّ أَكْثَرَ أَهْلِ الْعِلْمِ، قَالُوا: لَا تَدَعُ الصَّلَاةَ بَعْدَ الْأَرْبَعِينَ، وَهُوَ قَوْلُ أَكْثَرِ الْفُقَهَاءِ , وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَابْنُ الْمُبَارَكِ، وَالشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاق، وَيُرْوَى عَنْ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّهَا تَدَعُ الصَّلَاةَ خَمْسِينَ يَوْمًا إِذَا لَمْ تَرَ الطُّهْرَ وَيُرْوَى عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ , وَالشَّعْبِيِّ سِتِّينَ يَوْمًا.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے زمانے میں نفاس والی عورتیں چالیس دن تک بیٹھی رہتی تھیں ، اور جھائیوں کے سبب ہم اپنے چہروں پر ورس ( نامی گھاس ہے ) ملتی تھیں ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث غریب ہے ، اسے ہم صرف ابوسہل ہی کی روایت سے جانتے ہیں ، ¤ ۲- صحابہ کرام ، تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے تمام اہل علم کا اس امر پر اجماع ہے کہ نفاس والی عورتیں چالیس دن تک نماز نہیں پڑھیں گی ۔ البتہ اگر وہ اس سے پہلے پاک ہو لیں تو غسل کر کے نماز پڑھنے لگ جائیں ، اگر چالیس دن کے بعد بھی وہ خون دیکھیں تو اکثر اہل علم کا کہنا ہے کہ چالیس دن کے بعد وہ نماز نہ چھوڑیں ، یہی اکثر فقہاء کا قول ہے ۔ سفیان ثوری ، ابن مبارک ، شافعی ، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں ۔ حسن بصری کہتے ہیں کہ پچاس دن تک نماز چھوڑے رہے جب وہ پاکی نہ دیکھے ، عطاء بن ابی رباح اور شعبی سے ساٹھ دن تک مروی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 139]
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح، ابن ماجة (648)
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/ الطہارة 121 (311)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 128 (648)، (تحفة الأشراف: 18287)، مسند احمد (6/300، 303، 304، 310) (حسن صحیح) (سند میں مُسّہ ازدیہ لین الحدیث یعنی ضعیف ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث حسن صحیح ہے)
جامع الترمذي • حدیث #139
137 138 139 140 141
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ