جامع الترمذي حدیث نمبر: 1389
Jami at-Tirmidhi 1389
کتاب #17: کتاب: دیت و قصاص کے احکام و مسائل
2: باب مَا جَاءَ فِي الدِّيَةِ كَمْ هِيَ مِنَ الدَّرَاهِمِ
باب: دیت میں کتنے درہم دئیے جائیں؟
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ , وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , وَفِي حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ كَلَامٌ أَكْثَرُ مِنْ هَذَا. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا يَذْكُرُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ , وَهُوَ قَوْلُ: أَحْمَدَ , وَإِسْحَاق , وَرَأَى بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ الدِّيَةَ عَشْرَةَ آلَافٍ , وَهُوَ قَوْلُ: سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ , وَأَهْلِ الْكُوفَةِ , وقَالَ الشَّافِعِيُّ: لَا أَعْرِفُ الدِّيَةَ إِلَّا مِنَ الْإِبِلِ , وَهِيَ مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ أَوْ قِيمَتُهَا.
ہم سے سعید بن عبدالرحمٰن المخزومی نے بیان کیا ، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے عمرو بن دینار کے واسطے سے بیان کیا ، عمرو بن دینار نے عکرمہ سے اور عکرمہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کیا ہے ، لیکن انہوں نے اس روایت میں ابن عباس کا ذکر نہیں کیا ، ابن عیینہ کی روایت میں محمد بن مسلم طائفی کی روایت کی بنسبت کچھ زیادہ باتیں ہیں ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ہمارے علم میں محمد بن مسلم کے علاوہ کسی نے اس حدیث میں ” ابن عباس “ کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا ہے ، ¤ ۲- بعض اہل علم کے نزدیک اسی حدیث پر عمل ہے ، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے ، ¤ ۳- اور بعض اہل اعلم کے نزدیک دیت دس ہزار ( درہم ) ہے ، سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا یہی قول ہے ، ¤ ۴- امام شافعی کہتے ہیں : ہم اصل دیت صرف اونٹ کو سمجھتے ہیں اور وہ سو اونٹ یا اس کی قیمت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1389]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، ابن ماجة (2629)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف، وانظر ما قبلہ (تحفة الأشراف: 19120) (ضعیف) (یہ مرسل روایت ہے)