📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے احکامات اور فیصلے (كتاب الأحكام عن رسول الله صلى الله عليه وسلم) 🏷️ باب: باب: گری پڑی چیز اور گمشدہ اونٹ اور بکری کا بیان۔
عربی:
اردو:
35: باب مَا جَاءَ فِي اللُّقَطَةِ وَضَالَّةِ الإِبِلِ وَالْغَنَمِ
باب: گری پڑی چیز اور گمشدہ اونٹ اور بکری کا بیان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ , عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ , عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ , أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اللُّقَطَةِ، فَقَالَ: " عَرِّفْهَا سَنَةً , ثُمَّ اعْرِفْ وِكَاءَهَا , وَوِعَاءَهَا , وَعِفَاصَهَا , ثُمَّ اسْتَنْفِقْ بِهَا فَإِنْ جَاءَ رَبُّهَا فَأَدِّهَا إِلَيْهِ " , فَقَالَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَضَالَّةُ الْغَنَمِ؟ فَقَالَ: " خُذْهَا فَإِنَّمَا هِيَ لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ " , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَضَالَّةُ الْإِبِلِ؟ قَالَ: فَغَضِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى احْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ , أَوِ احْمَرَّ وَجْهُهُ , فَقَالَ: " مَا لَكَ وَلَهَا مَعَهَا حِذَاؤُهَا , وَسِقَاؤُهَا , حَتَّى تَلْقَى رَبَّهَا ". حَدِيثُ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَقَدْ رُوِيَ عَنْهُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ , وَحَدِيثُ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ , عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَقَدْ رُوِيَ عَنْهُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ , قَالَ: وَفِي الْبَاب , عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ , وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو , وَالْجَارُودِ بْنِ الْمُعَلَّى , وَعِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ , وَجَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ.
زید بن خالد جہنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لقطہٰ ( گری پڑی چیز ) کے بارے میں پوچھا ، تو آپ نے فرمایا : ” سال بھر تک اس کی پہچان کراؤ ، پھر اس کا سر بند ، اس کا برتن اور اس کی تھیلی پہچان لو ، پھر اسے خرچ کر لو اور اگر اس کا مالک آ جائے تو اُسے ادا کر دو “ ، اس آدمی نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! گمشدہ بکری کا کیا حکم ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” اسے پکڑ کر باندھ لو ، کیونکہ وہ تمہارے لیے ہے ، یا تمہارے بھائی کے لیے ، یا بھیڑیئے کے لیے “ ۔ اس آدمی نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! گمشدہ اونٹ کا کیا حکم ہے ؟ اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہو گئے یہاں تک کہ آپ کے گال لال پیلا ہو گئے ۔ یا آپ کا چہرہ لال پیلا ہو گیا اور آپ نے فرمایا : ” تم کو اس سے کیا سروکار ؟ اس کے ساتھ اس کا جوتا اور اس کی مشک ہے ۱؎ ( وہ پانی پر جا سکتا ہے اور درخت سے کھا سکتا ہے ) یہاں تک کہ اپنے مالک سے جا ملے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- زید بن خالد کی حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- ان سے اور بھی طرق سے یہ حدیث مروی ہے ۔ منبعث کے مولیٰ یزید کی حدیث جسے انہوں نے زید بن خالد سے روایت کی ہے حسن صحیح ہے ، ¤ ۳- اور ان سے یہ اور بھی کئی سندوں سے مروی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1372]
💡 وضاحت:
۱؎: جوتے سے مراد اونٹ کا پاؤں ہے اور مشکیزہ سے اس کا پیٹ جس میں وہ کئی دن کی ضرورت کا پانی ایک ساتھ بھر لیتا ہے اور باربار پانی پینے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا، اسے بکری کی طرح بھیڑیئے وغیرہ کا خوف نہیں وہ خود اپنا دفاع کر لیتا ہے اس لیے اسے پکڑ کر باندھنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (2504)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/العلم 28 (91)، والشرب والمساقاة 12 (2372)، واللقطہ 2 (2427)، صحیح مسلم/اللقطة 1 (1722)، سنن ابی داود/ اللقطة 1 (1704-1708)، سنن ابن ماجہ/اللقطة 1 (2504)، (تحفة الأشراف: 3763)، وط/الأقضیة 38 (46)، و مسند احمد (4/115) (صحیح)
جامع الترمذي • حدیث #1372
1370 1371 1372 1373 1374

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#1373 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ ب...
زید بن خالد جہنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لقطہٰ ( گری پڑی چیز ) کے ب...
#1374 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ , وَيَزِيدُ ...
سوید بن غفلہ کہتے ہیں کہ میں زید بن صوحان اور سلمان بن ربیعہ کے ساتھ نکلا تو مجھے ( راستے میں ) ایک ...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ