جامع الترمذي حدیث نمبر: 1366
Jami at-Tirmidhi 1366
کتاب #16: کتاب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے احکامات اور فیصلے
29: باب مَا جَاءَ فِيمَنْ زَرَعَ فِي أَرْضِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ
باب: دوسرے کی زمین میں بغیر اجازت فصل بونے کا بیان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ , حَدَّثَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ النَّخَعِيُّ , عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ زَرَعَ فِي أَرْضِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ , فَلَيْسَ لَهُ مِنَ الزَّرْعِ شَيْءٌ وَلَهُ نَفَقَتُهُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ , لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي إِسْحَاق إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ , وَهُوَ قَوْلُ: أَحْمَدَ , وَإِسْحَاق , وَسَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ: هُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ , وَقَالَ: لَا أَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي إِسْحَاق إِلَّا مِنْ رِوَايَةِ شَرِيكٍ , قَالَ مُحَمَّدٌ: حَدَّثَنَا مَعْقِلُ بْنُ مَالِكٍ الْبَصْرِيُّ , حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ الْأَصَمِّ , عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
رافع بن خدیج رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص دوسرے کی زمین میں ان کی اجازت کے بغیر فصل بوئے ، اس کو فصل سے کچھ نہیں ملے گا وہ صرف خرچ لے سکتا ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے ، ¤ ۲- ہم اسے بروایت ابواسحاق صرف شریک بن عبداللہ ہی کے طریق سے جانتے ہیں ، ¤ ۳- بعض اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے اور یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے ۱؎ ¤ ۴- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : یہ حدیث حسن ہے ، انہوں نے کہا : میں اسے بروایت ابواسحاق صرف شریک ہی کے طریق سے جانتا ہوں ، ¤ ۵- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ ہم سے معقل بن مالک بصریٰ نے بسند «عقبة بن الأصم عن عطاء عن رافع بن خديج عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی طرح روایت کی ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1366]
💡 وضاحت:
۱؎: اور یہی قول راجح ہے اس کے برخلاف کچھ لوگوں کی رائے یہ ہے کہ فصل تو غاصب کی ہو گی اور زمین کا مالک اس سے زمین کا کرایہ وصول کرے گا، مگر اس قول پر کوئی دلیل ایسی نہیں جسے اس حدیث کے مقابلہ میں پیش کیا جا سکے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (2466)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(1366) إسناده ضعيف / د 3403، جه 2466
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ البیوع 33 (3403)، سنن ابن ماجہ/الرہون 13 (الأحکام 74)، (2466)، (تحفة الأشراف: 3570)، و مسند احمد (3/465) (صحیح)