📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے احکامات اور فیصلے (كتاب الأحكام عن رسول الله صلى الله عليه وسلم) 🏷️ باب: باب: گواہی مدعی پر اور قسم مدعیٰ علیہ پر ہے۔
عربی:
اردو:
12: باب مَا جَاءَ فِي أَنَّ الْبَيِّنَةَ عَلَى الْمُدَّعِي وَالْيَمِينَ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ
باب: گواہی مدعی پر اور قسم مدعیٰ علیہ پر ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ، وَرَجُلٌ مِنْ كِنْدَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَذَا غَلَبَنِي عَلَى أَرْضٍ لِي، فَقَالَ الْكِنْدِيُّ: هِيَ أَرْضِي وَفِي يَدِي لَيْسَ لَهُ فِيهَا حَقٌّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحَضْرَمِيِّ: " أَلَكَ بَيِّنَةٌ؟ "، قَالَ: لَا، قَالَ: " فَلَكَ يَمِينُهُ "، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الرَّجُلَ فَاجِرٌ لَا يُبَالِي عَلَى مَا حَلَفَ عَلَيْهِ، وَلَيْسَ يَتَوَرَّعُ مِنْ شَيْءٍ، قَالَ: " لَيْسَ لَكَ مِنْهُ، إِلَّا ذَلِكَ ". قَالَ: فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ لِيَحْلِفَ لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَمَّا أَدْبَرَ لَئِنْ حَلَفَ عَلَى مَالِكَ لِيَأْكُلَهُ ظُلْمًا لَيَلْقَيَنَّ اللَّهَ وَهُوَ عَنْهُ مُعْرِضٌ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عُمَرَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَالْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
وائل بن حجر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ دو آدمی ایک حضر موت سے اور ایک کندہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ۔ حضرمی نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اس ( کندی ) نے میری زمین پر قبضہ کر لیا ہے ، اس پر کندی نے کہا : یہ میری زمین ہے اور میرے قبضہ میں ہے ، اس پر اس ( حضرمی ) کا کوئی حق نہیں ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرمی سے پوچھا : ” تمہارے پاس کوئی گواہ ہے ؟ “ ، اس نے عرض کیا : نہیں ، آپ نے فرمایا : ” پھر تو تم اس سے قسم ہی لے سکتے ہو “ ، اس آدمی نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! وہ فاجر آدمی ہے اسے اس کی پرواہ نہیں کہ وہ کس بات پر قسم کھا رہا ہے ۔ اور نہ وہ کسی چیز سے احتیاط برتتا ہے ، آپ نے فرمایا : ” اس سے تم قسم ہی لے سکتے ہو “ ۔ آدمی قسم کھانے چلا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب وہ پیٹھ پھیر کر جانے لگا فرمایا : اگر اس نے ظلماً تمہارا مال کھانے کے لیے قسم کھائی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس سے رخ پھیرے ہو گا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- وائل بن حجر کی حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں عمر ، ابن عباس ، عبداللہ بن عمرو ، اور اشعث بن قیس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1340]
قال الشيخ الألباني: صحيح، الإرواء (2632)
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الإیمان 61 (223)، سنن ابی داود/ الأیمان والنذور 2 (3245)، (تحفة الأشراف: 11768)، و مسند احمد (4/317) (صحیح)
جامع الترمذي • حدیث #1340
1338 1339 1340 1341 1342

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#1341 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ , أَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، وَغَيْرُهُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ ...
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبہ میں فرمایا : ” گ...
#1342 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَسْكَرٍ الْبَغْدَادِيُّ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ,...
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ قسم مدعی علی...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ