📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے احکامات اور فیصلے (كتاب الأحكام عن رسول الله صلى الله عليه وسلم) 🏷️ باب: باب: قاضی جب تک دونوں فریق کی بات نہ سن لے فیصلہ نہ کرے۔
عربی:
اردو:
5: باب مَا جَاءَ فِي الْقَاضِي لاَ يَقْضِي بَيْنَ الْخَصْمَيْنِ حَتَّى يَسْمَعَ كَلاَمَهُمَا
باب: قاضی جب تک دونوں فریق کی بات نہ سن لے فیصلہ نہ کرے۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ حَنَشٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا تَقَاضَى إِلَيْكَ رَجُلَانِ، فَلَا تَقْضِ لِلْأَوَّلِ، حَتَّى تَسْمَعَ كَلَامَ الْآخَرِ، فَسَوْفَ تَدْرِي، كَيْفَ تَقْضِي "، قَالَ عَلِيٌّ: فَمَا زِلْتُ قَاضِيًا بَعْدُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تمہارے پاس دو آدمی فیصلہ کے لیے آئیں تو تم پہلے کے حق میں فیصلہ نہ کرو جب تک کہ دوسرے کی بات نہ سن لو ۱؎ عنقریب تم جان لو گے کہ تم کیسے فیصلہ کرو “ ۔ علی رضی الله عنہ کہتے ہیں : اس کے بعد میں برابر فیصلے کرتا رہا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1331]
💡 وضاحت:
۱؎: اور اگر دوسرا فریق خاموش رہے، عدالت کے سامنے کچھ نہ کہے، نہ اقرار کرے نہ انکار یا دوسرا فریق عدالت کی طلبی کے باوجود عدالت میں بیان دینے کے لیے حاضر نہ ہو تو کیا دوسرے فریق کے خلاف فیصلہ دیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ قرین صواب بات یہی ہے کہ اس صورت میں عدالت یک طرفہ فیصلہ دینے کی مجاز ہو گی۔
قال الشيخ الألباني: حسن، الإرواء (2600)
قال الشيخ زبیر علی زئی: (1331) إسناده ضعيف / د 3582
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/ الأقضیة 6 (3582)، (تحفة الأشراف: 10081) (حسن) (متابعات کی بنا پر یہ حدیث حسن ہے، ورنہ اس کے راوی ”حنش“ ضعیف ہیں، دیکھئے: الإرواء رقم: 2600)
جامع الترمذي • حدیث #1331
1329 1330 1331 1332 1333
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ