جامع الترمذي حدیث نمبر: 1323
Jami at-Tirmidhi 1323
کتاب #16: کتاب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے احکامات اور فیصلے
1: باب مَا جَاءَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقَاضِي
باب: قاضی اور قضاء کے سلسلے میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے ارشادات۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ بِلَالِ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ سَأَلَ الْقَضَاءَ وُكِلَ إِلَى نَفْسِهِ، وَمَنْ أُجْبِرَ عَلَيْهِ يُنْزِلُ اللَّهُ عَلَيْهِ مَلَكًا، فَيُسَدِّدُهُ ".
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو قضاء کا مطالبہ کرتا ہے وہ اپنی ذات کے حوالے کر دیا جاتا ہے ( اللہ کی مدد اس کے شامل حال نہیں ہوتی ) اور جس کو جبراً قاضی بنایا جاتا ہے ، اللہ اس کے پاس ایک فرشتہ بھیجتا ہے جو اسے راہ راست پر رکھتا ہے “ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1323]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، ابن ماجة (2309) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (507)، ضعيف الجامع الصغير (5614) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(1323) إسناده ضعيف / د 3578، جه 2309
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الأقضیة 3 (3578)، سنن ابن ماجہ/الأحکام 1 (2309)، (تحفة الأشراف: 256)، و مسند احمد (3/118) (ضعیف) (سند میں بلال لین الحدیث ہیں)