جامع الترمذي حدیث نمبر: 1315
Jami at-Tirmidhi 1315
کتاب #15: کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
74: باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الْغِشِّ فِي الْبُيُوعِ
باب: بیع میں دھوکہ دینے کی حرمت کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى صُبْرَةٍ مِنْ طَعَامٍ، فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهَا، فَنَالَتْ أَصَابِعُهُ بَلَلًا، فَقَالَ: " يَا صَاحِبَ الطَّعَامِ مَا هَذَا "، قَالَ: أَصَابَتْهُ السَّمَاءُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " أَفَلَا جَعَلْتَهُ فَوْقَ الطَّعَامِ حَتَّى يَرَاهُ النَّاسُ "، ثُمَّ قَالَ: " مَنْ غَشَّ فَلَيْسَ مِنَّا ". قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَأَبِي الْحَمْرَاءِ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَبُرَيْدَةَ، وَأَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ، وَحُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ، كَرِهُوا الْغِشَّ وَقَالُوا: الْغِشُّ حَرَامٌ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک غلہ کے ڈھیر سے گزرے ، تو آپ نے اس کے اندر اپنا ہاتھ داخل کر دیا ، آپ کی انگلیاں تر ہو گئیں تو آپ نے فرمایا : ” غلہ والے ! یہ کیا معاملہ ہے ؟ “ اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! بارش سے بھیگ گیا ہے ، آپ نے فرمایا : ” اسے اوپر کیوں نہیں کر دیا تاکہ لوگ دیکھ سکیں “ ، پھر آپ نے فرمایا : ” جو دھوکہ دے ۱؎ ، ہم میں سے نہیں ہے “ ۲؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲ - اس باب میں ابن عمر ، ابوحمراء ، ابن عباس ، بریدہ ، ابوبردہ بن دینار اور حذیفہ بن یمان رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ¤ ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے ۔ وہ دھوکہ دھڑی کو ناپسند کرتے ہیں اور اسے حرام کہتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1315]
💡 وضاحت:
۱؎ بیع میں دھوکہ دہی کی مختلف صورتیں ہیں، مثلاً سودے میں کوئی عیب ہو اسے ظاہر نہ کرنا، اچھے مال میں ردی اور گھٹیا مال کی ملاوٹ کر دینا، سودے میں کسی اور چیز کی ملاوٹ کر دینا تاکہ اس کا وزن زیادہ ہو جائے وغیرہ وغیرہ۔
۲؎: ”ہم میں سے نہیں“، کا مطلب ہے مسلمانوں کے طریقے پر نہیں، اس کا یہ فعل مسلمان کے فعل کے منافی ہے۔
۲؎: ”ہم میں سے نہیں“، کا مطلب ہے مسلمانوں کے طریقے پر نہیں، اس کا یہ فعل مسلمان کے فعل کے منافی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (2224)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الإیمان 43 (102)، سنن ابی داود/ البیوع 52 (3452)، سنن ابن ماجہ/التجارات 36 (2224)، (تحفة الأشراف: 13979)، و مسند احمد (2/242) (صحیح)