📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل (كتاب البيوع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم) 🏷️ باب: باب: مشترکہ زمین جس کا حصہ دار اپنا حصہ بیچنا چاہے۔
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 1312 Jami at-Tirmidhi 1312
کتاب #15: کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
71: باب مَا جَاءَ فِي أَرْضِ الْمُشْتَرَكِ يُرِيدُ بَعْضُهُمْ بَيْعَ نَصِيبِهِ
باب: مشترکہ زمین جس کا حصہ دار اپنا حصہ بیچنا چاہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْيَشْكُرِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ كَانَ لَهُ شَرِيكٌ فِي حَائِطٍ، فَلَا يَبِيعُ نَصِيبَهُ مِنْ ذَلِكَ، حَتَّى يَعْرِضَهُ عَلَى شَرِيكِهِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ إِسْنَادُهُ لَيْسَ بِمُتَّصِلٍ، سَمِعْت مُحَمَّدًا يَقُولُ: سُلَيْمَانُ الْيَشْكُرِيُّ، يُقَالُ: إِنَّهُ مَاتَ فِي حَيَاةِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْهُ قَتَادَةُ، وَلَا أَبُو بِشْرٍ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَلَا نَعْرِفُ لِأَحَدٍ مِنْهُمْ سَمَاعًا مِنْ سُلَيْمَانَ الْيَشْكُرِيِّ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، فَلَعَلَّهُ سَمِعَ مِنْهُ فِي حَيَاةِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: وَإِنَّمَا يُحَدِّثُ قَتَادَةُ، عَنْ صَحِيفَةِ سُلَيْمَانَ الْيَشْكُرِيِّ، وَكَانَ لَهُ كِتَابٌ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْعَطَّارُ عَبْدُ الْقُدُّوسِ قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ: قَالَ سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ: ذَهَبُوا بِصَحِيفَةِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ إِلَى الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ فَأَخَذَهَا، أَوْ قَالَ: فَرَوَاهَا، وَذَهَبُوا بِهَا إِلَى قَتَادَةَ، فَرَوَاهَا، وَأَتَوْنِي بِهَا، فَلَمْ أَرْوِهَا، يَقُولُ: رَدَدْتُهَا.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس آدمی کے باغ میں کوئی ساجھی دار ہو تو وہ اپنا حصہ اس وقت تک نہ بیچے جب تک کہ اسے اپنے ساجھی دار پر پیش نہ کر لے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- اس حدیث کی سند متصل نہیں ہے ، ¤ ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا : سلیمان یشکری کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ جابر بن عبداللہ کی زندگی ہی میں مر گئے تھے ، ان سے قتادہ اور ابوبشر کا سماع نہیں ہے ۔ محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں : میں نہیں جانتا ہوں کہ ان میں سے کسی نے سلیمان یشکری سے کچھ سنا ہو سوائے عمرو بن دینار کے ، شاید انہوں نے جابر بن عبداللہ کی زندگی ہی میں سلیمان یشکری سے حدیث سنی ہو ۔ وہ کہتے ہیں کہ قتادہ ، سلیمان یشکری کی کتاب سے حدیث روایت کرتے تھے ، سلیمان کے پاس ایک کتاب تھی جس میں جابر بن عبداللہ سے مروی احادیث لکھی تھیں ، ¤ ۳- سلیمان تمیمی کہتے ہیں : لوگ جابر بن عبداللہ کی کتاب حسن بصری کے پاس لے گئے تو انہوں نے اسے لیا یا اس کی روایت کی ۔ اور لوگ اسے قتادہ کے پاس لے گئے تو انہوں نے بھی اس کی روایت کی اور میرے پاس لے کر آئے تو میں نے اس کی روایت نہیں کی میں نے اسے رد کر دیا ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1312]
قال الشيخ الألباني: صحيح، الإرواء (5 / 373)، أحاديث البيوع
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ مؤلف، وانظر مسند احمد (3/357) (صحیح لغیرہ) و أخرجہ کل من: صحیح مسلم/المساقاة 28 (البیوع 49)، (1608)، سنن ابی داود/ البیوع 75 (3513)، سنن النسائی/البیوع 80 (4650)، و 107 (4704، 4705)، (تحفة الأشراف: 2272)، و مسند احمد (3/312، 316، 397)، وسنن الدارمی/البیوع 83 (2670) معناہ في سیاق حدیث ”الشفعة“
جامع الترمذي • حدیث #1312
1310 1311 1312 1313 1314
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ