جامع الترمذي حدیث نمبر: 1298
Jami at-Tirmidhi 1298
کتاب #15: کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
62: باب مَا جَاءَ فِي الرُّجُوعِ فِي الْهِبَةِ
باب: ہبہ کو واپس لینے پر وارد وعید کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَيْسَ لَنَا مَثَلُ السُّوءِ الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بری مثال ہمارے لیے مناسب نہیں ، ہدیہ دے کر واپس لینے والا کتے کی طرح ہے جو قے کر کے چاٹتا ہے “ ۱؎ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1298]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے ہبہ کو واپس لینے کی شناعت و قباحت واضح ہوتی ہے، ایک تو ایسے شخص کو کتے سے تشبیہ دی گئی ہے، دوسرے ہبہ کی گئی چیز کو قے سے تعبیر کیا جس سے انسان انتہائی کراہت محسوس کرتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (2385)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الہبة 30 (2622)، والحیل 14 (6975)، سنن النسائی/الہبة 3 (3728، 3729)، (تحفة الأشراف: 5992)، و مسند احمد (1/217) وانظر الحدیث الآتي، مایأتي برقم: 2131 و 2132 (صحیح) وانظر أیضا: صحیح البخاری/الہبة 14 (2589)، صحیح مسلم/الہبات 2 (1622)، سنن النسائی/الہبة 2 (3721-3722)، و3 (3723، 3725-3727، 3730)، و4 (3731-3733)