جامع الترمذي حدیث نمبر: 126
Jami at-Tirmidhi 126
کتاب #1: کتاب: طہارت کے احکام و مسائل
94: بَابُ مَا جَاءَ أَنَّ الْمُسْتَحَاضَةَ تَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلاَةٍ
باب: مستحاضہ عورت ہر نماز کے لیے وضو کرے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي الْيَقْظَانِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ فِي الْمُسْتَحَاضَةِ: " تَدَعُ الصَّلَاةَ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُ فِيهَا ثُمَّ تَغْتَسِلُ، وَتَتَوَضَّأُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَتَصُومُ وَتُصَلِّي ".
عدی کے دادا عبید بن عازب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے مستحاضہ کے سلسلہ میں فرمایا : ” وہ ان دنوں میں جن میں اسے حیض آتا ہو نماز چھوڑے رہے ، پھر وہ غسل کرے ، اور ( استحاضہ کا خون آنے پر ) ہر نماز کے لیے وضو کرے ، روزہ رکھے اور نماز پڑھے “ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 126]
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (625)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف / د 257، جه 625 ¤ أبو اليقظان ضعیف مدلس (د297) وللحديث شواهد ضعیفة .
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الطہارة 113 (397)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 115 (625)، (تحفة الأشراف: 3542)، سنن الدارمی/الطہارة 83 (820) (صحیح) (اس کی سند میں ابو الیقظان ضعیف، اور شریک حافظہ کے کمزور ہیں، مگر دوسری سندوں اور حدیثوں سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے)۔