📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل (كتاب البيوع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم) 🏷️ باب: باب: رہن سے فائدہ اٹھانے کا بیان۔
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 1254 Jami at-Tirmidhi 1254
کتاب #15: کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
31: باب مَا جَاءَ فِي الاِنْتِفَاعِ بِالرَّهْنِ
باب: رہن سے فائدہ اٹھانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَيُوسُفُ بْنُ عِيسَى، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ زَكَرِيَّا، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الظَّهْرُ يُرْكَبُ إِذَا كَانَ مَرْهُونًا، وَلَبَنُ الدَّرِّ يُشْرَبُ إِذَا كَانَ مَرْهُونًا، وَعَلَى الَّذِي يَرْكَبُ وَيَشْرَبُ نَفَقَتُهُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، لَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَقَدْ رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَوْقُوفًا، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَهُوَ قَوْلُ: أَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: لَيْسَ لَهُ أَنْ يَنْتَفِعَ مِنَ الرَّهْنِ بِشَيْءٍ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سواری کا جانور جب رہن رکھا ہو تو اس پر سواری کی جائے اور دودھ والا جانور جب گروی رکھا ہو تو اس کا دودھ پیا جائے ، اور جو سواری کرے اور دودھ پیے جانور کا خرچ اسی کے ذمہ ہے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- ہم اسے بروایت عامر شعبی ہی مرفوع جانتے ہیں ، انہوں نے ابوہریرہ سے روایت کی ہے اور کئی لوگوں نے اس حدیث کو اعمش سے روایت کیا ہے اور اعمش نے ابوصالح سے اور ابوصالح نے ابوہریرہ رضی الله عنہ سے موقوفا روایت کی ہے ، ¤ ۳- بعض اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے ۔ اور یہی قول احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی ہے ، ¤ ۴- بعض اہل علم کہتے ہیں کہ رہن سے کسی طرح کا فائدہ اٹھانا درست نہیں ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1254]
💡 وضاحت:
۱؎: «مرہون» گروی رکھی ہوئی چیز سے فائدہ اٹھانا «مرتہن» رہن رکھنے والے کے لیے درست نہیں البتہ اگر «مرہون» جانور ہو تو اس حدیث کی رو سے اس پر اس کے چارے کے عوض سواری کی جا سکتی ہے اور اس کا دودھ استعمال کیا جا سکتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (2440)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الرہن 4 (2511)، سنن ابی داود/ البیوع 78 (3526)، سنن ابن ماجہ/الرہون 2 (2440)، (تحفة الأشراف: 13540)، و مسند احمد 2/228) (صحیح)
جامع الترمذي • حدیث #1254
1252 1253 1254 1255 1256
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ