جامع الترمذي حدیث نمبر: 1227
Jami at-Tirmidhi 1227
کتاب #15: کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
15: باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلاَحُهَا
باب: پختگی ظاہر ہونے سے پہلے پھل کو بیچنے کی کراہت کا بیان۔
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنْ بَيْعِ السُّنْبُلِ، حَتَّى يَبْيَضَّ، وَيَأْمَنَ الْعَاهَةَ نَهَى الْبَائِعَ، وَالْمُشْتَرِيَ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَنَسٍ، وَعَائِشَةَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَجَابِرٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، كَرِهُوا بَيْعَ الثِّمَارِ قَبْلَ أَنْ يَبْدُوَ صَلَاحُهَا وَهُوَ قَوْلُ: الشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق.
اسی سند سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( گیہوں اور جو وغیرہ کے ) خوشے بیچنے سے منع فرمایا یہاں تک کہ وہ پختہ ہو جائیں اور آفت سے مامون ہو جائیں ، آپ نے بائع اور مشتری دونوں کو منع فرمایا ہے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں انس ، عائشہ ، ابوہریرہ ، ابن عباس ، جابر ، ابو سعید خدری اور زید بن ثابت رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ¤ ۳- صحابہ کرام میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے ۔ یہ لوگ پھل کی پختگی ظاہر ہونے سے پہلے اس کے بیچنے کو مکروہ سمجھتے ہیں ، یہی شافعی ، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1227]
قال الشيخ الألباني:
صحيح أحاديث البيوع
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح)