جامع الترمذي حدیث نمبر: 1224
Jami at-Tirmidhi 1224
کتاب #15: کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
14: باب مَا جَاءَ فِي النَّهْىِ عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ
باب: محاقلہ اور مزابنہ کی ممانعت کا بیان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُحَاقَلَةِ، وَالْمُزَابَنَةِ "، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، وَسَعْدٍ، وَجَابِرٍ، وَرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْمُحَاقَلَةُ بَيْعُ الزَّرْعِ بِالْحِنْطَةِ، وَالْمُزَابَنَةُ بَيْعُ الثَّمَرِ عَلَى رُءُوسِ النَّخْلِ بِالتَّمْرِ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ كَرِهُوا بَيْعَ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابن عمر ، ابن عباس ، زید بن ثابت ، سعد ، جابر ، رافع بن خدیج اور ابوسعید رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ¤ ۳- بالیوں میں کھڑی کھیتی کو گیہوں سے بیچنے کو محاقلہ کہتے ہیں ، اور درخت پر لگے ہوئی کھجور توڑی گئی کھجور سے بیچنے کو مزابنہ کہتے ہیں ، ¤ ۴- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے ۔ یہ لوگ محاقلہ اور مزابنہ کو مکروہ سمجھتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1224]
قال الشيخ الألباني:
صحيح أحاديث البيوع، الإرواء (2354)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/البیوع 17 (1545)، (تحفة الأشراف: 12768)، مسند احمد (2/419) (صحیح) وأخرجہ کل من: سنن النسائی/المزارعة 2 (3915)، مسند احمد (2/392، 484) من غیر ہذا الوجہ۔