📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: طہارت کے احکام و مسائل (كتاب الطهارة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم) 🏷️ باب: باب: عورت کے خواب میں وہی چیز دیکھنے کا بیان جو مرد دیکھتا ہے۔
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 122 Jami at-Tirmidhi 122
کتاب #1: کتاب: طہارت کے احکام و مسائل
90: بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمَرْأَةِ تَرَى فِي الْمَنَامِ مِثْلَ مَا يَرَى الرَّجُلُ
باب: عورت کے خواب میں وہی چیز دیکھنے کا بیان جو مرد دیکھتا ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: جَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ بِنْتُ مِلْحَانَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ، فَهَلْ عَلَى الْمَرْأَةِ تَعْنِي غُسْلًا إِذَا هِيَ رَأَتْ فِي الْمَنَامِ مِثْلَ مَا يَرَى الرَّجُلُ؟ قَالَ: " نَعَمْ إِذَا هِيَ رَأَتِ الْمَاءَ فَلْتَغْتَسِلْ " , قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: قُلْتُ لَهَا: فَضَحْتِ النِّسَاءَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهُوَ قَوْلُ عَامَّةِ الْفُقَهَاءِ أَنَّ الْمَرْأَةَ إِذَا رَأَتْ فِي الْمَنَامِ مِثْلَ مَا يَرَى الرَّجُلُ فَأَنْزَلَتْ أَنَّ عَلَيْهَا الْغُسْلَ، وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ , وَالشَّافِعِيُّ، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ، وَخَوْلَةَ، وَعَائِشَةَ، وَأَنَسٍ.
ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ام سلیم بنت ملحان نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہنے لگیں : اللہ کے رسول ! اللہ حق سے نہیں شرماتا ۱؎ کیا عورت پر بھی غسل ہے ، جب وہ خواب میں وہی چیز دیکھے جو مرد دیکھتا ہے ۲؎ آپ نے فرمایا : ” ہاں ، جب وہ منی دیکھے تو غسل کرے “ ۳؎ ام سلمہ کہتی ہیں : میں نے ام سلیم سے کہا : ام سلیم ! آپ نے تو عورتوں کو رسوا کر دیا ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- بیشتر فقہاء کا قول ہے کہ عورت جب خواب میں وہی چیز دیکھے جو مرد دیکھتا ہے پھر اسے انزال ہو جائے ( یعنی منی نکل جائے ) تو اس پر غسل واجب ہے ، یہی سفیان ثوری اور شافعی بھی کہتے ہیں ، ¤ ۳- اس باب میں ام سلیم ، خولہ ، عائشہ اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 122]
💡 وضاحت:
۱؎: مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ شرم و حیاء کی وجہ سے حق کے بیان کرنے سے نہیں رکتا، تو میں بھی ان مسائل کے پوچھنے سے باز نہیں رہ سکتی جن کی مجھے احتیاج اور ضرورت ہے۔
۲؎: جو مرد دیکھتا ہے سے مراد احتلام ہے۔
۳؎: اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ منی کے نکلنے سے عورت پر بھی غسل واجب ہو جاتا ہے، نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مردوں کی طرح عورتوں کو بھی احتلام ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (600)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/العلم 50 (130)، والغسل 22 (282)، والأنبیاء 1 (3328)، والأدب 68 (6091)، و79 (6121)، صحیح مسلم/الحیض 7 (313)، سنن النسائی/الطہارة 131 (197)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 107 (610)، (تحفة الأشراف: 18264)، مسند احمد (6/292، 302، 306) (صحیح)
جامع الترمذي • حدیث #122
120 121 122 123 124
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ