جامع الترمذي حدیث نمبر: 118
Jami at-Tirmidhi 118
کتاب #1: کتاب: طہارت کے احکام و مسائل
87: بَابُ مَا جَاءَ فِي الْجُنُبِ يَنَامُ قَبْلَ أَنْ يَغْتَسِلَ
باب: جنبی غسل کرنے سے پہلے سوئے اس کا بیان۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنَامُ وَهُوَ جُنُبٌ وَلَا يَمَسُّ مَاءً ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سوتے اور پانی کو ہاتھ نہ لگاتے اور آپ جنبی ہوتے ۱؎ ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 118]
💡 وضاحت:
۱؎: اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ جنبی وضو اور غسل کے بغیر سو سکتا ہے، رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کا یہ عمل بیان جواز کے لیے ہے تاکہ امت پریشانی میں نہ پڑے، رہا اگلی حدیث میں آپ کا یہ عمل کہ آپ جنابت کے بعد سونے کے لیے وضو فرما لیا کرتے تھے تو یہ افضل ہے، دونوں حدیثوں میں کوئی ٹکراؤ نہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (581)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف / جه 581 ¤ أبو إسحاق مدلس (تقدم: 107) وصرح بالسماع عند البيهقي (1/201،202) ولكن المسند إليه ضعيف .
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/ الطہارة 90 (228)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 98 (581)، (تحفة الأشراف: 16024) (صحیح)