جامع الترمذي حدیث نمبر: 114
Jami at-Tirmidhi 114
کتاب #1: کتاب: طہارت کے احکام و مسائل
83: بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمَنِيِّ وَالْمَذْيِ
باب: منی اور مذی کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو السَّوَّاقُ الْبَلْخِيُّ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ. ح قَالَ: وحَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ الْمَذْيِ , فَقَالَ: " مِنَ الْمَذْيِ الْوُضُوءُ، وَمِنَ الْمَنِيِّ الْغُسْلُ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ , وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ: مِنَ الْمَذْيِ الْوُضُوءُ وَمِنَ الْمَنِيِّ الْغُسْلُ , وَهُوَ قَوْلُ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ، وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ، وَالشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ , وَإِسْحَاق.
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے مذی ۱؎ کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا : ” مذی سے وضو ہے اور منی سے غسل “ ۲؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں مقداد بن اسود اور ابی بن کعب رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ، ¤ ۳- علی بن ابی طالب رضی الله عنہ سے کئی سندوں سے مرفوعاً مروی ہے کہ ” مذی سے وضو ہے ، اور منی سے غسل “ ، ¤ ۴- صحابہ کرام اور تابعین میں سے اکثر اہل علم کا یہی قول ہے ، اور سفیان ، شافعی ، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 114]
💡 وضاحت:
۱؎: حدیث اس بات پر دلیل ہے کہ مذی کے نکلنے سے غسل واجب نہیں ہوتا، اس سے صرف وضو ٹوٹتا ہے، مذی سفید، پتلا لیس دار پانی ہے جو بیوی سے چھیڑ چھاڑ کے وقت اور جماع کے ارادے کے وقت مرد کی شرمگاہ سے خارج ہوتا ہے۔
۲؎: خواہ یہ منی جماع سے نکلے یا چھیڑ چھاڑ سے، یا خواب (نیند) میں، بہرحال اس سے غسل واجب ہو جاتا ہے۔
۲؎: خواہ یہ منی جماع سے نکلے یا چھیڑ چھاڑ سے، یا خواب (نیند) میں، بہرحال اس سے غسل واجب ہو جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (504)
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف / جه 504 ¤ يزيد بن أبي زياد ضعیف مدلس مختلط . (ضعيف سنن أبي داود: 749)
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الطہارة70 (504)، مسند احمد (1/87، 110، 112، 121)، (تحفة الأشراف: 10225)، وراجع أیضا: صحیح البخاری/الغسل 13 (269)، سنن ابی داود/ الطہارة 83 (206)، سنن النسائی/الطہارة 112 (152)، والغسل 28 (436)، مسند احمد (1/ 82، 108) (صحیح) (سند میں یزید بن ابی زیاد ضعیف ہیں، لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے)