جامع الترمذي حدیث نمبر: 1137
Jami at-Tirmidhi 1137
کتاب #12: کتاب: نکاح کے احکام و مسائل
39: باب مَا جَاءَ فِي الْعَزْلِ
باب: عزل کا بیان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: " كُنَّا نَعْزِلُ وَالْقُرْآنُ يَنْزِلُ". قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْهُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، وَقَدْ رَخَّصَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ فِي الْعَزْلِ، وقَالَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ: تُسْتَأْمَرُ الْحُرَّةُ فِي الْعَزْلِ وَلَا تُسْتَأْمَرُ الْأَمَةُ.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم عزل کرتے تھے اور قرآن اتر رہا تھا ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- جابر رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- یہ حدیث اور بھی کئی طرق سے ان سے مروی ہے ، ¤ ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کی ایک جماعت نے عزل کی اجازت دی ہے ۔ مالک بن انس کا قول ہے کہ آزاد عورت سے عزل کی اجازت لی جائے گی اور لونڈی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1137]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اگر عزل منع ہوتا تو اللہ تعالیٰ قرآن میں اس کی ممانعت نازل کر دیتا، البتہ آزاد عورت سے اس کی اجازت کے بغیر عزل درست نہیں ہے، جیسا کہ امام مالک نے کہا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (1927)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/النکاح 96 (5208، 5209)، صحیح مسلم/النکاح 22 (1440)، سنن ابن ماجہ/النکاح 30 (1927)، (تحفة الأشراف: 2468) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/النکاح 96 (5207)، صحیح مسلم/النکاح (المصدر المذکور) من غیر ہذا الوجہ۔