جامع الترمذي حدیث نمبر: 1103
Jami at-Tirmidhi 1103
کتاب #12: کتاب: نکاح کے احکام و مسائل
16: باب مَا جَاءَ لاَ نِكَاحَ إِلاَّ بِبَيِّنَةٍ
باب: گواہ کے بغیر نکاح درست نہیں۔
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْبَغَايَا اللَّاتِي يُنْكِحْنَ أَنْفُسَهُنَّ بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ ". قَالَ يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ: رَفَعَ عَبْدُ الْأَعْلَى هَذَا الْحَدِيثَ فِي التَّفْسِيرِ، وَأَوْقَفَهُ فِي كِتَابِ الطَّلَاقِ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” زنا کار ہیں وہ عورتیں جو گواہوں کے بغیر خود نکاح کر لیتی ہیں “ ۔ یوسف بن حماد کہتے ہیں کہ عبدالاعلی نے اس حدیث کو کتاب التفسیر میں مرفوع بیان کیا ہے اور کتاب الطلاق میں اسے انہوں نے موقوفاً بیان کیا ہے ، مرفوع نہیں کیا ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1103]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، الإرواء (1862) // ضعيف الجامع الصغير (2375) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(1103) (1104) إسناده ضعيف ¤ قتاده مدلس (تقدم:30) وعنعن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 5387) (ضعیف) (مؤلف نے سبب کی وضاحت کر سنن الدارمی/ ہے، مگر دوسرے نصوص سے گواہ کا واجب ہونا ثابت ہے)