جامع الترمذي حدیث نمبر: 1103
Jami at-Tirmidhi 1103
کتاب #12: کتاب: نکاح کے احکام و مسائل
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْبَغَايَا اللَّاتِي يُنْكِحْنَ أَنْفُسَهُنَّ بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ ". قَالَ يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ: رَفَعَ عَبْدُ الْأَعْلَى هَذَا الْحَدِيثَ فِي التَّفْسِيرِ، وَأَوْقَفَهُ فِي كِتَابِ الطَّلَاقِ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” زنا کار ہیں وہ عورتیں جو گواہوں کے بغیر خود نکاح کر لیتی ہیں “ ۔ یوسف بن حماد کہتے ہیں کہ عبدالاعلی نے اس حدیث کو کتاب التفسیر میں مرفوع بیان کیا ہے اور کتاب الطلاق میں اسے انہوں نے موقوفاً بیان کیا ہے ، مرفوع نہیں کیا ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1103]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف، الإرواء (1862) // ضعيف الجامع الصغير (2375) //
قال الشيخ زبیر علی زئی:
(1103) (1104) إسناده ضعيف ¤ قتاده مدلس (تقدم:30) وعنعن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 5387) (ضعیف) (مؤلف نے سبب کی وضاحت کر سنن الدارمی/ ہے، مگر دوسرے نصوص سے گواہ کا واجب ہونا ثابت ہے)