جامع الترمذي حدیث نمبر: 1088
Jami at-Tirmidhi 1088
کتاب #12: کتاب: نکاح کے احکام و مسائل
6: باب مَا جَاءَ فِي إِعْلاَنِ النِّكَاحِ
باب: نکاح کے اعلان کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَلْجٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ الْجُمَحِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَصْلُ مَا بَيْنَ الْحَرَامِ وَالْحَلَالِ الدُّفُّ وَالصَّوْتُ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عَائِشَةَ، وَجَابِرٍ، وَالرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَأَبُو بَلْجٍ اسْمُهُ: يَحْيَى بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَيُقَالُ: ابْنُ سُلَيْمٍ أَيْضًا، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاطِبٍ قَدْ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ غُلَامٌ صَغِيرٌ.
محمد بن حاطب جمحی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” حرام اور حلال ( نکاح ) کے درمیان فرق صرف دف بجانے اور اعلان کرنے کا ہے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- محمد بن حاطب کی حدیث حسن ہے ، ¤ ۲- محمد بن حاطب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے ، لیکن وہ کم سن بچے تھے ، ¤ ۳- اس باب میں ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا ، جابر اور ربیع بنت معوذ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1088]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نکاح اعلانیہ کیا جانا چاہیئے، خفیہ طور پر چوری چھپے نہیں، اس لیے کہ اعلانیہ نکاح کرنے پر کسی کو میاں بیوی کے تعلقات پر انگلی اٹھانے کا موقع نہیں ملتا۔ عموماً یہی دیکھنے میں آتا ہے کہ غلط نکاح ہی چھپ کر کیا جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن، ابن ماجة (1896)
تخریج دارالدعوہ:
سنن النسائی/النکاح 72 (3372)، سنن ابن ماجہ/النکاح 20 (1896)، (تحفة الأشراف: 11221)، مسند احمد (3/418) (حسن)