📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل (كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم) 🏷️ باب: باب: قرض دار کی نماز جنازہ کا بیان۔
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 1070 Jami at-Tirmidhi 1070
کتاب #11: کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
69: باب مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ عَلَى الْمَدْيُونِ
باب: قرض دار کی نماز جنازہ کا بیان۔
حَدَّثَنِي أَبُو الْفَضْلِ مَكْتُومُ بْنُ الْعَبَّاسِ التِّرْمِذِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُؤْتَى بِالرَّجُلِ الْمُتَوَفَّى عَلَيْهِ الدَّيْنُ، فَيَقُولُ: " هَلْ تَرَكَ لِدَيْنِهِ مِنْ قَضَاءٍ "، فَإِنْ حُدِّثَ أَنَّهُ تَرَكَ وَفَاءً صَلَّى عَلَيْهِ، وَإِلَّا قَالَ لِلْمُسْلِمِينَ: " صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ "، فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْفُتُوحَ قَامَ، فَقَالَ: " أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ، فَمَنْ تُوُفِّيَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَتَرَكَ دَيْنًا عَلَيَّ قَضَاؤُهُ، وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَهُوَ لِوَرَثَتِهِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ وَغَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، نَحْوَ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَالِحٍ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی فوت شدہ شخص جس پر قرض ہو لایا جاتا تو آپ پوچھتے : ” کیا اس نے اپنے قرض کی ادائیگی کے لیے کچھ چھوڑا ہے ؟ “ اگر آپ کو بتایا جاتا کہ اس نے اتنا مال چھوڑا ہے جس سے اس کے قرض کی مکمل ادائیگی ہو جائے گی تو آپ اس کی نماز جنازہ پڑھاتے ، ورنہ مسلمانوں سے فرماتے : ” تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو ( میں نہیں پڑھ سکتا ) “ ، پھر جب اللہ نے آپ کے لیے فتوحات کا دروازہ کھولا تو آپ کھڑے ہوئے اور آپ نے فرمایا : ” میں مسلمانوں کا ان کی اپنی جانوں سے زیادہ حقدار ہوں ۔ تو مسلمانوں میں سے جس کی موت ہو جائے اور وہ قرض چھوڑ جائے تو اس کی ادائیگی میرے ذمہ ہے اور جو کوئی مال چھوڑ کر جائے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اسے یحییٰ بن بکیر اور دیگر کئی لوگوں نے لیث بن سعد سے عبداللہ بن صالح کی حدیث کی طرح روایت کیا ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1070]
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (2415)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الکفارة 5 (2298) والنفقات 15 (5371) صحیح مسلم/الفرائض 4 (1619) (تحفة الأشراف: 152116) مسند احمد (2/453) (صحیح) وأخرجہ کل من: سنن النسائی/الجنائز67 (1965) سنن ابن ماجہ/الصدقات13 (2415) مسند احمد (2/290) من غیر ہذا الوجہ، وأخرجہ: صحیح البخاری/الاستقراض 11 (2398، 2399) وتفسیر الاقراب 1 (4791) والفرائض 4 (6731) و15 (6745) و25 (6763) صحیح مسلم/الفرائض (المصدرالمذکور) مسند احمد (2/456) مغتصرا ومن غیر ہذا الوجہ۔
جامع الترمذي • حدیث #1070
1068 1069 1070 1071 1072

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#1069 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عُثْمَانَ ...
ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص لایا گیا تاکہ آپ اس کی ...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ