جامع الترمذي حدیث نمبر: 1067
Jami at-Tirmidhi 1067
کتاب #11: کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
67: باب مَا جَاءَ فِيمَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ
باب: جو اللہ سے ملنا چاہتا ہے، اللہ بھی اس سے ملنا چاہتا ہے۔
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا ذَكَرَتْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ " قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كُلُّنَا نَكْرَهُ الْمَوْتَ، قَالَ: " لَيْسَ ذَلِكَ، وَلَكِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا بُشِّرَ بِرَحْمَةِ اللَّهِ وَرِضْوَانِهِ وَجَنَّتِهِ، أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ وَأَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ، وَإِنَّ الْكَافِرَ إِذَا بُشِّرَ بِعَذَابِ اللَّهِ وَسَخَطِهِ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ وَكَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو اللہ سے ملنا چاہتا ہے اللہ بھی اس سے ملنا چاہتا ہے ، اور جو اللہ سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے اللہ بھی اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے “ ۔ تو میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم سبھی کو موت ناپسند ہے ؟ تو آپ نے فرمایا : ” یہ مراد نہیں ہے ، بلکہ مراد یہ ہے کہ مومن کو جب اللہ کی رحمت ، اس کی خوشنودی اور اس کے جنت کی بشارت دی جاتی ہے تو وہ اللہ سے ملنا چاہتا ہے اور اللہ اس سے ملنا چاہتا ہے ، اور کافر کو جب اللہ کے عذاب اور اس کی غصے کی خبر دی جاتی ہے تو وہ اللہ سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے اور اللہ بھی اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1067]
💡 وضاحت:
۱؎: مطلب یہ ہے کہ جان نکلنے کے وقت اور موت کے فرشتوں کے آ جانے کے وقت آدمی میں اللہ سے ملنے کی جو چاہت ہوتی ہے وہ مراد ہے نہ کہ عام حالات میں کیونکہ عام حالات میں کوئی بھی مرنے کو پسند نہیں کرتا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (4264)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الرقاق 41 (تعلیقا بعد حدیث عبادة) صحیح مسلم/الذکر 5 (2684) سنن النسائی/الجنائز 10 (1839) سنن ابن ماجہ/الزہد 31 (4264) (تحفة الأشراف: 16103) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح مسلم/الذکر (المصدر المذکور) مسند احمد (6/44، 55، 207) من غیر ہذا الوجہ۔