جامع الترمذي حدیث نمبر: 1063
Jami at-Tirmidhi 1063
کتاب #11: کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
65: باب مَا جَاءَ فِي الشُّهَدَاءِ مَنْ هُمْ
باب: شہید کون لوگ ہیں؟
حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ. ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الشُّهَدَاءُ خَمْسٌ: الْمَطْعُونُ، وَالْمَبْطُونُ، وَالْغَرِقُ، وَصَاحِبُ الْهَدْمِ، وَالشَّهِيدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَنَسٍ، وَصَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ، وَجَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ، وَخَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ، وَأَبِي مُوسَى، وَعَائِشَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” شہید پانچ لوگ ہیں : جو طاعون میں مرا ہو ، جو پیٹ کے مرض سے مرا ہو ، جو ڈوب کر مرا ہو ، جو دیوار وغیرہ گر جانے سے مرا ہو ، اور جو اللہ کی راہ میں شہید ہوا ہو “ ۱؎ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں انس ، صفوان بن امیہ ، جابر بن عتیک ، خالد بن عرفطہٰ ، سلیمان بن صرد ، ابوموسیٰ اشعری اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1063]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ پانچ قسم کے افراد ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ قیامت کے روز شہیدوں کا ثواب عطا فرمائے گا بعض روایات میں کچھ اور لوگوں کا بھی ذکر ہے ان احادیث میں تضاد نہیں اس لیے کہ پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنے ہی لوگوں کے بارے میں بتایا گیا بعد میں اللہ تعالیٰ نے اس فہرست میں کچھ مزید لوگوں کا بھی اضافہ فرما دیا ان میں «شہید فی سبیل اللہ» کا درجہ سب سے بلند ہے کیونکہ حقیقی شہید وہی ہے بشرطیکہ وہ صدق دلی سے اللہ کی راہ میں لڑا ہو۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح الأحكام (38)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأذان 32 (652) و73 (720) (بزیادة فی السیاق) والجہاد 30 (2829) والطب30 (5733) صحیح مسلم/الإمارة 51 (1914) (بزیادة في السیاق) موطا امام مالک/الجماعة 2 (6) (بزیادة فی السیاق) مسند احمد (2/325، 533) (بزیادة فی السیاق) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح مسلم/الإمارة (المصدر المذکور) سنن ابن ماجہ/الجہاد 17 (2804) من غیر ہذا الطریق۔