📖 جامع الترمذي • فہرست کتب (Book Index) ↗

جامع الترمذي

Jami at-Tirmidhi (جَامِعُ التِّرْمِذِيِّ)
📁 کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل (كتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم) 🏷️ باب: نماز جنازہ میں سورۃ فاتحہ پڑھنے کا بیان۔
عربی:
اردو:
جامع الترمذي حدیث نمبر: 1027 Jami at-Tirmidhi 1027
کتاب #11: کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
39: باب مَا جَاءَ فِي الْقِرَاءَةِ عَلَى الْجَنَازَةِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ
🏷️ باب: نماز جنازہ میں سورۃ فاتحہ پڑھنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ فَقَرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ". فَقُلْتُ لَهُ، فَقَالَ: " إِنَّهُ مِنَ السُّنَّةِ أَوْ مِنْ تَمَامِ السُّنَّةِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، يَخْتَارُونَ أَنْ يُقْرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ بَعْدَ التَّكْبِيرَةِ الْأُولَى، وَهُوَ قَوْلُ: الشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: لَا يُقْرَأُ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ، إِنَّمَا هُوَ ثَنَاءٌ عَلَى اللَّهِ، وَالصَّلَاةُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالدُّعَاءُ لِلْمَيِّتِ، وَهُوَ قَوْلُ: الثَّوْرِيِّ، وَغَيْرِهِ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ، وَطَلْحَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ هُوَ: ابْنُ أَخِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، رَوَى عَنْهُ الزُّهْرِيُّ.
طلحہ بن عوف کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی الله عنہما نے ایک نماز جنازہ پڑھایا تو انہوں نے سورۃ فاتحہ پڑھی ۔ میں نے ان سے ( اس کے بارے میں ) پوچھا تو انہوں نے کہا : یہ سنت ہے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- طلحہ بن عبداللہ بن عوف ، عبدالرحمٰن بن عوف کے بھتیجے ہیں ۔ ان سے زہری نے روایت کی ہے ، ¤ ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے یہ لوگ تکبیر اولیٰ کے بعد سورۃ فاتحہ پڑھنے کو پسند کرتے ہیں یہی شافعی ، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے ، ¤ ۴- اور بعض اہل علم کہتے ہیں کہ نماز جنازہ میں سورۃ فاتحہ نہیں پڑھی جائے گی ۱؎ اس میں تو صرف اللہ کی ثنا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاۃ ( درود ) اور میت کے لیے دعا ہوتی ہے ۔ اہل کوفہ میں سے ثوری وغیرہ کا یہی قول ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1027]
💡 وضاحت:
۱؎: ان لوگوں کا کہنا ہے کہ جن روایتوں سے پہلی تکبیر کے بعد سورۃ فاتحہ کا پڑھنا ثابت ہوتا ہے ان کی تاویل یہ کی جائیگی کہ یہ قرأت کی نیت سے نہیں بلکہ دعا کی نیت سے پڑھی گئی تھی لیکن یہ محض تاویل ہے جس پر کوئی دلیل نہیں۔ مبتدعین کی حرکات بھی عجیب وغریب ہوا کرتی ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام سے نماز جنازہ میں ثابت سورۃ فاتحہ نماز جنازہ میں نہیں پڑھیں گے اور رسم قُل، تیجا، ساتویں وغیرہ میں فاتحہ کا رٹہ لگائیں گے اور وہ بھی معلوم نہیں کون سی فاتحہ پڑھتے ہیں حقہ کے بغیر ان کے ہاں قبول ہی نہیں ہوتی۔ «فيا عجبا لهذه الخرافات»
قال الشيخ الألباني: صحيح أنظر ما قبله (1026)
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجنائز 65 (1335)، سنن ابی داود/ الجنائز 59 (3198)، سنن النسائی/الجنائز 77 (1989)، (تحفة الأشراف: 5764) (صحیح)
جامع الترمذي • حدیث #1027
1025 1026 1027 1028 1029

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#1026 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُثْم...
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنازے میں سورۃ فاتحہ پڑھی ...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ