جامع الترمذي حدیث نمبر: 1015
Jami at-Tirmidhi 1015
کتاب #11: کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
30: باب مَا جَاءَ فِي الإِسْرَاعِ بِالْجَنَازَةِ
باب: جنازہ تیزی سے لے جانے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَسْرِعُوا بِالْجَنَازَةِ، فَإِنْ يَكُنْ خَيْرًا تُقَدِّمُوهَا إِلَيْهِ، وَإِنْ يَكُنْ شَرًّا تَضَعُوهُ عَنْ رِقَابِكُمْ ". وَفِي الْبَاب: عَنْ أَبِي بَكْرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جنازہ تیزی سے لے کر چلو ۱؎ ، اگر وہ نیک ہو گا تو اسے خیر کی طرف جلدی پہنچا دو گے ، اور اگر وہ برا ہو گا تو اسے اپنی گردن سے اتار کر ( جلد ) رکھ دو گے ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- اس باب میں ابوبکرہ سے بھی روایت ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1015]
💡 وضاحت:
۱؎: جمہور کے نزدیک امر استحباب کے لیے ہے، ابن حزم کہتے ہیں کہ وجوب کے لیے ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح، ابن ماجة (1477)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الجنائز 51 (1315)، صحیح مسلم/الجنائز 16 (944)، سنن ابی داود/ الجنائز 50 (3181)، سنن النسائی/الجنائز 44 (1911)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 15 (1477) (تحفة الأشراف: 13124) (صحیح) وأخرجہ مالک/الجنائز 16 (56)، موقوفا علی أبي ہریرة۔