جامع الترمذي حدیث نمبر: 1004
Jami at-Tirmidhi 1004
کتاب #11: کتاب: جنازہ کے احکام و مسائل
25: باب مَا جَاءَ فِي الرُّخْصَةِ فِي الْبُكَاءِ عَلَى الْمَيِّتِ
باب: میت پر رونے کی رخصت کا بیان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ الْمُهَلَّبِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ ". فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَرْحَمُهُ اللَّهُ لَمْ يَكْذِبْ وَلَكِنَّهُ وَهِمَ، إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ مَاتَ يَهُودِيًّا: " إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ وَإِنَّ أَهْلَهُ لَيَبْكُونَ عَلَيْهِ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَقَرَظَةَ بْنِ كَعْبٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَابْنِ مَسْعُودٍ، وَأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ عَائِشَةَ، وَقَدْ ذَهَبَ أَهْلُ الْعِلْمِ إِلَى هَذَا وَتَأَوَّلُوا هَذِهِ الْآيَةَ وَلا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى سورة الأنعام آية 164، وَهُوَ قَوْلُ: الشَّافِعِيِّ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میت کو اپنے گھر والوں کے اس پر رونے سے عذاب دیا جاتا ہے “ ، ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں : اللہ ( ابن عمر ) پر رحم کرے ، انہوں نے جھوٹ نہیں کہا ، انہیں وہم ہوا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ بات اس یہودی کے لیے فرمائی تھی جو مر گیا تھا : ” میت کو عذاب ہو رہا ہے اور اس کے گھر والے اس پر رو رہے ہیں “ ۔ © امام ترمذی کہتے ہیں : ¤ ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے ، ¤ ۲- یہ حدیث دوسری سندوں سے بھی عائشہ رضی الله عنہا سے مروی ہے ، ¤ ۳- اس باب میں ابن عباس ، قرظہ بن کعب ، ابوہریرہ ، ابن مسعود اور اسامہ بن زید رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ¤ ۴- بعض اہل علم اسی جانب گئے ہیں اور ان لوگوں نے آیت : «ولا تزر وازرة وزر أخرى» ” کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا “ ، کا مطلب بھی یہی بیان کیا ہے اور یہی شافعی کا بھی قول ہے ۔ [سنن ترمذي/حدیث: 1004]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 8564 و17683) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/المغازي 8 (3978)، صحیح مسلم/الجنائز 9 (928-929)، سنن ابی داود/ الجنائز 29 (3129)، سنن النسائی/الجنائز 15 (1856)، مسند احمد (2/38)، و (6/39، 57، 95، 209)، من غیر ہذا الطریق، وانظر أیضا (رقم: 1006)