سنن النسائي حدیث نمبر: 760
Sunan an-Nasa'i 760
کتاب #12: کتاب: قبلہ کے احکام و مسائل
10: بَابُ : الرُّخْصَةِ فِي الصَّلاَةِ خَلْفَ النَّائِمِ
باب: سونے والے کے پیچھے نماز پڑھنے کی رخصت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ وَأَنَا رَاقِدَةٌ مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ عَلَى فِرَاشِهِ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ أَيْقَظَنِي فَأَوْتَرْتُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تھے ، اور میں آپ کے اور قبلہ کے بیچ آپ کے بستر پر چوڑان میں سوئی رہتی تھی ، تو جب آپ وتر پڑھنے کا ارادہ کرتے تو مجھے جگاتے ، تو میں ( بھی ) وتر پڑھتی ۔ [سنن نسائي/حدیث: 760]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصلاة 3 10 (512)، الوتر 3 (997)، (تحفة الأشراف: 17312)، مسند احمد 6/50، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة 22 (383)، 104 (513)، 107 (518)، العمل في الصلاة 10 (1209)، صحیح مسلم/الصلاة 51 (512)، سنن ابی داود/الصلاة 112 (712)، موطا امام مالک/ صلاة اللیل 1 (2)، مسند احمد 6/50، 192، 205، 231، سنن الدارمی/الصلاة 127 (1453) (صحیح)