سنن النسائي حدیث نمبر: 753
Sunan an-Nasa'i 753
کتاب #12: کتاب: قبلہ کے احکام و مسائل
7: بَابُ : ذِكْرِ مَا يَقْطَعُ الصَّلاَةَ وَمَا لاَ يَقْطَعُ إِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَ يَدَىِ الْمُصَلِّي سُتْرَةٌ
باب: نمازی کے سامنے سترہ نہ ہو تو کون سی چیز نماز توڑ دیتی ہے اور کون سی نہیں توڑتی؟
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ سُفْيَانَ، قال: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، قال: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: " جِئْتُ أَنَا وَالْفَضْلُ عَلَى أَتَانٍ لَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ بِعَرَفَةَ، ثُمَّ ذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا، فَمَرَرْنَا عَلَى بَعْضِ الصَّفِّ فَنَزَلْنَا وَتَرَكْنَاهَا تَرْتَعُ، فَلَمْ يَقُلْ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں : میں اور فضل دونوں اپنی ایک گدھی پر سوار ہو کر آئے ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفہ میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے ( پھر انہوں نے ایک بات کہی جس کا مفہوم تھا : ) تو ہم صف کے کچھ حصہ سے گزرے ، پھر ہم اترے اور ہم نے گدھی کو چرنے کے لیے چھوڑ دیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کچھ نہیں کہا ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 753]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری کوئی سرزنش نہیں کی، کیونکہ امام مقتدیوں کا سترہ ہوتا ہے، اور وہ دونوں صف کے کچھ ہی حصہ سے گزرے تھے، امام کو عبور نہیں کیا تھا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/العلم 18 (76)، الصلاة 90 (493)، الأذان 161 (861)، جزاء الصید 25 (1857)، المغازي 77 (4412)، صحیح مسلم/الصلاة 47 (504)، سنن ابی داود/الصلاة 113 (715)، سنن الترمذی/الصلاة 136 (337)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 38 (947)، (تحفة الأشراف: 5834)، موطا امام مالک/السفر 11 (38)، مسند احمد 1/219، 264، 265، 337، 342، سنن الدارمی/الصلاة 129 (1455) (صحیح)