سنن النسائي حدیث نمبر: 711
Sunan an-Nasa'i 711
کتاب #11: کتاب: مساجد کے فضائل و مسائل
18: بَابُ : ضَرْبِ الْخِبَاءِ فِي الْمَسَاجِدِ
باب: مسجد میں خیمہ لگانے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، قال: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: أُصِيبَ سَعْدٌ يَوْمَ الْخَنْدَقِ رَمَاهُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ رَمْيَةً فِي الْأَكْحَلِ" فَضَرَبَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْمَةً فِي الْمَسْجِدِ لِيَعُودَهُ مِنْ قَرِيبٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : غزوہ خندق ( غزوہ احزاب ) کے دن سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ زخمی ہو گئے ، قبیلہ قریش کے ایک شخص نے ان کے ہاتھ کی رگ ۱؎ میں تیر مارا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے مسجد میں ایک خیمہ لگایا تاکہ آپ قریب سے ان کی عیادت کر سکیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 711]
💡 وضاحت:
۱؎: «اکحل» ہاتھ میں ایک رگ ہوتی ہے جسے «عرق الحیاۃ» کہتے ہیں اگر وہ کٹ جائے تو خون رکتا نہیں سارا خون بہہ جاتا ہے، اور آدمی مر جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصلاة 77 (463) مطولاً، المغازي 30 (4122) مطولاً، صحیح مسلم/الجھاد 22 (1769)، سنن ابی داود/الجنائز 8 (3101)، (تحفة الأشراف: 16978)، مسند احمد 6/56، 131، 280 (صحیح)