سنن النسائي حدیث نمبر: 619
Sunan an-Nasa'i 619
کتاب #9: کتاب: اوقات نماز کے احکام و مسائل
54: بَابُ : إِعَادَةِ مَا نَامَ عَنْهُ مِنَ الصَّلاَةِ لِوَقْتِهَا مِنَ الْغَدِ
باب: جس نماز سے آدمی سو جائے تو اسے دوسرے روز اس کے وقت پر دوبارہ پڑھنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ وَاصِلِ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا يَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا نَسِيتَ الصَّلَاةَ فَصَلِّ إِذَا ذَكَرْتَ، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ: وَأَقِمِ الصَّلاةَ لِذِكْرِي سورة طه آية 14". قَالَ عَبْدُ الْأَعْلَى: حَدَّثَنَا بِهِ يَعْلَى مُخْتَصَرًا.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم نماز بھول جاؤ تو یاد آنے پر اسے پڑھ لو ، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : «أقم الصلاة لذكري» ۱؎ ” نماز قائم کرو جب میری یاد آئے “ ۔ عبدالاعلی کہتے ہیں : اس حدیث کو ہم سے یعلیٰ نے مختصراً بیان کیا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 619]
💡 وضاحت:
۱؎: مشہور قرأت یاء متکلم کی طرف اضافت کے ساتھ ہے لیکن یہ قرأت مقصود کے مناسب نہیں اس لیے اس کی تاویل یہ کی جاتی ہے کہ مضاف مقدر ہے اصل عبارت یوں ہے «وقت ذکر صلاتی» اور ایک شاذ قرأت «للذکریٰ» اسم مقصور کے ساتھ ہے جو أوفق بالمقصود ہے، (جو رقم: ۶۲۱ کے تحت آ رہی ہے)۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
وقد أخرجہ، تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 13243) (صحیح)