سنن النسائي حدیث نمبر: 592
Sunan an-Nasa'i 592
کتاب #9: کتاب: اوقات نماز کے احکام و مسائل
45: بَابُ : الْوَقْتِ الَّذِي يَجْمَعُ فِيهِ الْمُسَافِرُ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ
باب: مسافر کے مغرب اور عشاء کی نمازوں کو جمع کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ شَيْخٍ مِنْ قُرَيْشٍ، قال: صَحِبْتُ ابْنَ عُمَرَ إِلَى الْحِمَى، فَلَمَّا غَرَبَتِ الشَّمْسُ هِبْتُ أَنْ أَقُولَ لَهُ الصَّلَاةَ، " فَسَارَ حَتَّى ذَهَبَ بَيَاضُ الْأُفُقِ وَفَحْمَةُ الْعِشَاءِ ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ عَلَى إِثْرِهَا، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ".
قریش کے ایک شیخ اسماعیل بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ میں حمی ۱؎ تک ابن عمر رضی اللہ عنہم کے ساتھ رہا ، جب سورج ڈوب گیا تو میں ڈرا کہ ان سے یہ کہوں کہ نماز پڑھ لیجئیے ، چنانچہ وہ چلتے رہے ، یہاں تک کہ افق کی سفیدی اور ابتدائی رات کی تاریکی ختم ہو گئی ، پھر وہ اترے اور مغرب کی تین رکعتیں پڑھیں ، پھر اس کے بعد دو رکعتیں پڑھیں ، پھر کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا ہی کرتے دیکھا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 592]
💡 وضاحت:
۱؎: مدینہ کے قریب ایک جگہ کا نام ہے۔ جہاں سرکاری جانور چرا کرتے تھے اور یہ سرکاری چراگاہ تھی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 6649)، مسند احمد 2/12 (صحیح)