سنن النسائي حدیث نمبر: 5716
Sunan an-Nasa'i 5716
کتاب #57: کتاب: مشروبات (پینے والی چیزوں) کے احکام و مسائل
52: بَابُ : الْكَرَاهِيَةِ فِي بَيْعِ الْعَصِيرِ .
باب: انگور کا رس بیچنے کی ممانعت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ , قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ سُفْيَانَ بْنِ دِينَارٍ , عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ , قَالَ: كَانَ لِسَعْدٍ كُرُومٌ وَأَعْنَابٌ كَثِيرَةٌ , وَكَانَ لَهُ فِيهَا أَمِينٌ فَحَمَلَتْ عِنَبًا كَثِيرًا , فَكَتَبَ إِلَيْهِ: إِنِّي أَخَافُ عَلَى الْأَعْنَابِ الضَّيْعَةَ , فَإِنْ رَأَيْتَ أَنْ أَعْصُرَهُ عَصَرْتُهُ , فَكَتَبَ إِلَيْهِ سَعْدٌ: " إِذَا جَاءَكَ كِتَابِي هَذَا فَاعْتَزِلْ ضَيْعَتِي , فَوَاللَّهِ لَا أَئْتَمِنُكَ عَلَى شَيْءٍ بَعْدَهُ أَبَدًا , فَعَزَلَهُ عَنْ ضَيْعَتِهِ".
مصعب بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سعد کے انگور کے باغ تھے اور ان میں بہت انگور ہوتے تھے ۔ اس ( باغ ) میں ان کی طرف سے ایک نگراں رہتا تھا ، ایک مرتبہ باغ میں بکثرت انگور لگے ، نگراں نے انہیں لکھا : مجھے انگوروں کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہے ، اگر آپ مناسب سمجھیں تو میں ان کا رس نکال لوں ؟ ، تو سعد رضی اللہ عنہ نے اسے لکھا : جب میرا یہ خط تم تک پہنچے تو تم میرے اس ذریعہ معاش ( باغ ) کو چھوڑ دو ، اللہ کی قسم ! اس کے بعد تم پر کسی چیز کا اعتبار نہیں کروں گا ، چنانچہ انہوں نے اسے اپنے باغ سے ہٹا دیا ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5716]
💡 وضاحت:
۱؎: نگراں کا مقصد تھا کہ رس نکال کر بیچ دوں، تو شاید اس وقت زیادہ تر خریدنے والے اس رس سے شراب بناتے ہوں گے، اس لیے سعد رضی اللہ عنہ نے جوس نکال کر بیچنے کو ناپسند کیا، ورنہ صرف رس میں نشہ نہ ہو تو پیا جا سکتا ہے، اور اس کو خریدا اور بیچا جا سکتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد موقوف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 3942) (صحیح الإسناد)