سنن النسائي حدیث نمبر: 5706
Sunan an-Nasa'i 5706
کتاب #57: کتاب: مشروبات (پینے والی چیزوں) کے احکام و مسائل
48: بَابُ : ذِكْرِ الأَخْبَارِ الَّتِي اعْتَلَّ بِهَا مَنْ أَبَاحَ شَرَابَ الْمُسْكِرِ
باب: نشہ لانے والی شراب کو مباح اور جائز قرار دینے کی احادیث کا ذکر۔
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ سُلَيْمَانَ , قَالَ: أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ خَالِدِ بْنِ سَعْدٍ , عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ , قَالَ: عَطِشَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَوْلَ الْكَعْبَةِ , فَاسْتَسْقَى , فَأُتِيَ بِنَبِيذٍ مِنَ السِّقَايَةِ , فَشَمَّهُ فَقَطَّبَ , فَقَالَ: " عَلَيَّ بِذَنُوبٍ مِنْ زَمْزَمَ" فَصَبَّ عَلَيْهِ ثُمَّ شَرِبَ , فَقَالَ رَجُلٌ: أَحَرَامٌ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ , قَالَ: " لَا". وَهَذَا خَبَرٌ ضَعِيفٌ , لِأَنَّ يَحْيَى بْنَ يَمَانٍ انْفَرَدَ بِهِ دُونَ أَصْحَابِ سُفْيَانَ , وَيَحْيَى بْنُ يَمَانٍ لَا يُحْتَجُّ بِحَدِيثِهِ لِسُوءِ حِفْظِهِ وَكَثْرَةِ خَطَئِهِ.
ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کعبے کے پاس پیاسے ہو گئے ، تو آپ نے پانی طلب کیا ۔ آپ کے پاس مشکیزہ میں بنی ہوئی نبیذ لائی گئی ۔ آپ نے اسے سونگھا اور منہ ٹیڑھا کیا ( ناپسندیدگی کا اظہار کیا ) فرمایا : ” میرے پاس زمزم کا ایک ڈول لاؤ “ ، آپ نے اس میں تھوڑا پانی ملایا پھر پیا ، ایک شخص بولا : اللہ کے رسول ! کیا یہ حرام ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” نہیں “ ۔ ( ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں : ) یہ ضعیف ہے ، اس لیے کہ یحییٰ بن یمان اس کی روایت میں اکیلے ہیں ، سفیان کے دوسرے تلامذہ نے اسے روایت نہیں کیا ۔ اور یحییٰ بن یمان کی حدیث سے دلیل نہیں لی جا سکتی اس لیے کہ ان کا حافظہ ٹھیک نہیں اور وہ غلطیاں بہت کرتے ہیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5706]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، سفيان الثوري عنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 367
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 9980) (ضعیف الإسناد) (مولف نے وجہ بیان کر دی ہے)