سنن النسائي حدیث نمبر: 5690
Sunan an-Nasa'i 5690
کتاب #57: کتاب: مشروبات (پینے والی چیزوں) کے احکام و مسائل
48: بَابُ : ذِكْرِ الأَخْبَارِ الَّتِي اعْتَلَّ بِهَا مَنْ أَبَاحَ شَرَابَ الْمُسْكِرِ
باب: نشہ لانے والی شراب کو مباح اور جائز قرار دینے کی احادیث کا ذکر۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ أَبِي الْجُوَيْرِيَةِ الْجَرْمِيِّ , قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ وَهُوَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَى الْكَعْبَةِ عَنِ الْبَاذَقِ , فَقَالَ: " سَبَقَ مُحَمَّدٌ الْبَاذَقَ , وَمَا أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ" , قَالَ: أَنَا أَوَّلُ الْعَرَبِ سَأَلَهُ.
ابوالجویریہ جرمی کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے «باذق» ( بادہ ) کے بارے میں پوچھا ، وہ کعبے سے پیٹھ لگائے بیٹھے تھے ، چنانچہ وہ بولے : محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) «باذق» کے وجود سے پہلے ہی دنیا سے چلے گئے ( یا پہلے ہی اس کا حکم فرما گئے کہ ) جو مشروب نشہ لائے ، وہ حرام ہے ۔ وہ ( جرمی ) کہتے ہیں : میں عرب کا سب سے پہلا شخص تھا جس نے باذق کے بارے میں پوچھا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5690]
💡 وضاحت:
۱؎: «باذق» : بادہ کا معرب ہے جو فارسی لفظ ہے، انگور کے شیرے کو تھوڑا سا جوش دے کر ایک خاص قسم کا مشروب تیار کرتے ہیں۔ یہ مشروب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نہیں تھا، لیکن ہر نشہ لانے والے کے بارے میں آپ کا فرمان اس پر بھی صادق آتا ہے، اور آپ کا یہ بھی فرمان ہے کہ جس مشروب کا زیادہ حصہ نشہ لائے اس کا تھوڑا حصہ بھی حرام ہے، تو کیسے یہ بات صحیح ہو سکتی ہے کہ ”معروف شراب“ کے سوا دیگر مشروب کی وہی مقدار حرام ہے جو نشہ لائے؟۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 5609 (صحیح)