سنن النسائي حدیث نمبر: 5674
Sunan an-Nasa'i 5674
کتاب #57: کتاب: مشروبات (پینے والی چیزوں) کے احکام و مسائل
45: بَابُ : تَوْبَةِ شَارِبِ الْخَمْرِ
باب: شرابی کی توبہ کا بیان۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ , وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا ثُمَّ لَمْ يَتُبْ مِنْهَا حُرِمَهَا فِي الْآخِرَةِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے دنیا میں شراب پی پھر توبہ نہیں کی تو وہ آخرت میں اس سے محروم رہے گا “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5674]
💡 وضاحت:
۱؎: اگرچہ وہ جنت میں داخل ہو جائے، کیونکہ اس نے جنت کا اپنا حق لینے میں دنیا میں عجلت سے کام لیا، یہ ایسے ہی جیسے ریشم کے بارے میں مسند طیالسی میں ایک حدیث ہے (نمبر ۲۲۱۷) کہ ”جو دینا میں ریشم پہنے گا وہ آخرت میں اسے نہیں پہن سکے گا گرچہ اس میں داخل ہو جائے، دیگر اہل جنت تو پہنیں گے مگر وہ نہیں پہن سکے گا۔“ (ابن حبان نے اس حدیث کی تصحیح کی ہے ۷/۲۹۷)۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأشربة 1 (5575)، سنن ابن ماجہ/الأشربة 1 (3373)، (تحفة الأشراف: 8359)، مسند احمد (2/19، 22، 28) (صحیح)