سنن النسائي حدیث نمبر: 566
Sunan an-Nasa'i 566
کتاب #9: کتاب: اوقات نماز کے احکام و مسائل
34: بَابُ : النَّهْىِ عَنِ الصَّلاَةِ نِصْفَ النَّهَارِ
باب: ٹھیک دوپہر کے وقت نماز پڑھنے کی ممانعت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَهُوَ ابْنُ حَبِيبٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، قال: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ، يَقُولُ: " ثَلَاثُ سَاعَاتٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَانَا أَنْ نُصَلِّيَ فِيهِنَّ أَوْ نَقْبُرَ فِيهِنَّ مَوْتَانَا: حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ بَازِغَةً حَتَّى تَرْتَفِعَ، وَحِينَ يَقُومُ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ حَتَّى تَمِيلَ، وَحِينَ تَضَيَّفُ لِلْغُرُوبِ حَتَّى تَغْرُبَ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ تین اوقات ہیں جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھنے ، یا اپنے مردوں کو قبر میں دفنانے سے منع فرماتے تھے : ایک جس وقت سورج نکل رہا ہو ، یہاں تک کہ بلند ہو جائے ، دوسرے جس وقت ٹھیک دوپہر ہو یہاں تک کہ سورج ڈھل جائے ، تیسرے جس وقت سورج ڈوبنے کے لیے مائل ہو یہاں تک کہ ڈوب جائے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 566]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 561(صحیح)