سنن النسائي حدیث نمبر: 5647
Sunan an-Nasa'i 5647
کتاب #57: کتاب: مشروبات (پینے والی چیزوں) کے احکام و مسائل
36: بَابُ : ذِكْرِ الدِّلاَلَةِ عَلَى النَّهْىِ لِلْمَوْصُوفِ مِنَ الأَوْعِيَةِ
باب: سابقہ مذکور برتنوں کے استعمال کے ممنوع ہونے کے دلائل کا بیان کہ ممانعت تادیبی نہیں بلکہ حتمی تھی۔
أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ، عَنْ ابْنِ عَمٍّ لَهَا، يُقَالُ: لَهُ أَنَسٌ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَلَمْ يَقُلِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا سورة الحشر آية 7؟ , قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: أَلَمْ يَقُلِ اللَّهُ: وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ سورة الأحزاب آية 36؟ , قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: فَإِنِّي" أَشْهَدُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ النَّقِيرِ، وَالْمُقَيَّرِ، وَالدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ".
انس ( قیسی بصریٰ ) کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا : کیا اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا : «ما آتاكم الرسول فخذوه وما نهاكم عنه فانتهوا» ” جو کچھ تمہیں رسول دے ، اسے لے لو اور جس سے تمہیں روکے ، اس سے رک جاؤ “ ( الحشر : ۷ ) میں نے کہا : کیوں نہیں ۔ انہوں نے کہا : کیا یہ اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا : «وما كان لمؤمن ولا مؤمنة إذا قضى اللہ ورسوله أمرا أن يكون لهم الخيرة من أمرهم» ” کسی مومن مرد اور کسی مومن عورت کو جب اللہ اور اس کے رسول کسی معاملے میں فیصلہ کر دیں اپنے معاملات میں کوئی حق نہیں رہتا “ ( الاحزاب : ۳۶ ) میں نے کہا : کیوں نہیں ، انہوں نے کہا : تو میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لکڑی کے برتن ، روغنی برتن ، کدو کی تونبی اور لاکھ برتن سے منع فرمایا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5647]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، فيه مجهول ومجهولة وسليمان التيمي مدلس وعنعن. والحديث السابق (الأصل: 1997) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 366
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 5363) (ضعیف) (اس کے رواة انس قیسی اور اسماء قیسیہ لین الحدیث ہیں)