سنن النسائي حدیث نمبر: 5532
Sunan an-Nasa'i 5532
کتاب #56: کتاب: استعاذہ (بری چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگنے) کے آداب و احکام
60: بَابُ : الاِسْتِعَاذَةِ مِنَ الْخَسْفِ
باب: زمین میں دھنس جانے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْخَلِيلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ هُوَ ابْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ مُسْلِمٍ الْفَزَارِيِّ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " اللَّهُمَّ" , فَذَكَرَ الدُّعَاءَ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ: " أَعُوذُ بِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي" , يَعْنِي بِذَلِكَ الْخَسْفَ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کہتے تھے : «اللہم» ” اے اللہ ! “ پھر انہوں نے دعا کا ذکر کیا جس کے آخر میں یہ کہا : «أعوذ بك أن أغتال من تحتي» ” میں تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں نیچے کی طرف سے کسی مصیبت میں پھنس جاؤں “ اس سے آپ ( زمین میں ) دھنس جانا مراد لیتے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5532]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح)