سنن النسائي حدیث نمبر: 5446
Sunan an-Nasa'i 5446
کتاب #56: کتاب: استعاذہ (بری چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگنے) کے آداب و احکام
4: بَابُ : الاِسْتِعَاذَةِ مِنْ شَرِّ السَّمْعِ وَالْبَصَرِ
باب: کان اور آنکھ کے فتنے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْحَاق، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ أَوْسٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي بِلَالُ بْنُ يَحْيَى، أَنَّ شُتَيْرَ بْنَ شَكَلٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِيهِ شَكَلِ بْنِ حُمَيْدٍ , قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ , عَلِّمْنِي تَعَوُّذًا أَتَعَوَّذُ بِهِ؟ فَأَخَذَ بِيَدِي ثُمَّ قَالَ: " قُلْ: أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ سَمْعِي، وَشَرِّ بَصَرِي، وَشَرِّ لِسَانِي، وَشَرِّ قَلْبِي، وَشَرِّ مَنِيِّي"، قَالَ حَتَّى حَفِظْتُهَا. قَالَ سَعْدٌ: وَالْمَنِيُّ مَاؤُهُ.
شکل بن حمید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، میں نے عرض کیا : اللہ کے نبی ! مجھے کوئی ایسا تعوذ ( شر و فساد سے بھاگ کر اللہ کی پناہ میں آنے کی دعا ) بتائیے ، جس کے ذریعہ میں اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگوں ۔ آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا : کہو : ” «أعوذ بك من شر سمعي وشر بصري وشر لساني وشر قلبي وشر منيي» ” اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اپنے کان کی برائی سے ، اپنی آنکھ کی برائی سے ، اپنی زبان کی برائی سے ، اپنے دل کی برائی سے ، اپنی منی کی برائی سے “ ، شکل کہتے ہیں : یہاں تک کہ میں نے اسے یاد کر لیا ۔ سعد کہتے ہیں : منی سے مراد نطفہ ( پانی ) ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 5446]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الصلاة 367 (1551)، سنن الترمذی/الدعوات 75 (3492)، (تحفة الأشراف: 4847)، مسند احمد (3/429)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 5457، 5458، 5486) (صحیح)